تل ابیب ۔24مارچ (اے پی پی):اسرائیل کی اکنامک افیئرز کمیٹی نے ملک کے جنوبی علاقے میں نئے بین الاقوامی ایئرپورٹ کی تعمیر کی منظوری دی ہے،یہ ایئرپورٹ غزہ کی سرحد سے متصل ہوگا۔ العربیہ کے مطابق یہ ایئرپورٹ نیواتم میں قائم کیا جائے گا جو غزہ سے محض 65 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں اس ایئرپورٹ سے غزہ پہنچا جا سکتا ہے،اس …
اسرائیل کی اکنامک افیئرز کمیٹی نے جنوبی علاقے میں نئے بین الاقوامی ایئرپورٹ کی تعمیر کی منظوری دی

مزید خبریں
تل ابیب ۔24مارچ (اے پی پی):اسرائیل کی اکنامک افیئرز کمیٹی نے ملک کے جنوبی علاقے میں نئے بین الاقوامی ایئرپورٹ کی تعمیر کی منظوری دی ہے،یہ ایئرپورٹ غزہ کی سرحد سے متصل ہوگا۔ العربیہ کے مطابق یہ ایئرپورٹ نیواتم میں قائم کیا جائے گا جو غزہ سے محض 65 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں اس ایئرپورٹ سے غزہ پہنچا جا سکتا ہے،اس سے متصل فوجی اڈہ سرائے نقب میں ہے جسے امریکی ساختہ ایف 35 جنگی طیاروں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اس ایئربیس کو گزشتہ سال اکتوبر میں ایرانی میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔مجوزہ نیا ایئرپورٹ تل ابیب میں 132 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا اور اس کی تعمیر میں 7 سال لگیں گے جبکہ یہ ڈیڑھ کروڑ مسافروں کو سالانہ آمد و رفت کی سہولت دے سکے گا۔
بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ تل ابیب کے بین گورین ایئرپورٹ کی ٹریفک کو بہتر کرنے اور ملکی معیشت کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کرے گا، اس سے کم از کم 50 ہزار افراد کو ملازمتیں ملیں گی۔اس ایئرپورٹ کی اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اسٹیبلیشمنٹ نے مخالفت کی تھی کہ فوجی اڈے کے نزدیک ایک بین الاقوامی ایئرپورٹ تعمیر نہ کیا جائے۔خیال رہے کہ اسرائیل کا بین گورین ایئرپورٹ اسرائیل کا سب سے بڑا بین الاقوامی گیٹ وے ہے جہاں سے سالانہ 4 کروڑ مسافر سفر کر سکیں گے،تاہم یہ اس کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے قریب تر تعداد ہے۔
اکنامک کمیٹی نے بتایا ‘2050 تک سالانہ 8 کروڑ مسافر ایئرپورٹ سے اپنی آمد و رفت ممکن بنا سکیں گے۔








