مونٹریال۔8نومبر (اے پی پی):کینیڈا کی شاعرہ روپی کور نے وائٹ ہاؤس میں دیوالی کی تقریب میں شرکت کی دعوت مسترد کر دی اور اس اقدام کو غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی امریکی حمایت کے خلاف احتجاج قرار دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں روپی کور نے کہا کہ وہ ایسے ادارے کی طرف سے کسی بھی دعوت کو مسترد …
اسرائیل کی حمایت کے خلاف احتجاج ، کینیڈا کی شاعرہ روپی کور نے وائٹ ہاؤس میں دیوالی کی تقریب میں شرکت کی دعوت مسترد کر دی

مزید خبریں
مونٹریال۔8نومبر (اے پی پی):کینیڈا کی شاعرہ روپی کور نے وائٹ ہاؤس میں دیوالی کی تقریب میں شرکت کی دعوت مسترد کر دی اور اس اقدام کو غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی امریکی حمایت کے خلاف احتجاج قرار دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں روپی کور نے کہا کہ وہ ایسے ادارے کی طرف سے کسی بھی دعوت کو مسترد کرتی ہیں جو شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کی حمایت کرتا ہو ۔
انہوں نے جنوبی ایشیائی باشندوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی غزہ میں ہزاروں شہریوں کے قتل کی حمایت پر امریکی حکومت کو جوابدہ ٹھہرائیں ۔روپی کور نے مزید کہا کہ انہیں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے وائٹ ہائوس میں دیوالی کا تہوار جس کو ہندو روشنیوں کا تہوار کہتے ہیں اور جو جھو ٹ پر سچ اور جہالت پر علم کی فتح کا جشن ہے ، منانا کیسے قابل قبول ہے۔انہوں نے امریکی حکومت پر ’’فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی‘‘ کا جواز پیش کرنے کا الزام عائد کیا ۔
انہوں نے صدر جو بائیڈن کے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی حمایت کرنے سے انکار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کے باوجود امریکا نے اس جنگ بندی کی مخالفت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سکھ خاتون کے طور پر میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اس عمل کو درست قراردینے کے لیے اپنی ساکھ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دوں گی۔
وائٹ ہائوس میں منعقد ہونے والی دیوالی کی اس تقریب کی میزبانی امریکا کی بھارتی نژاد نائب صدر کملا ہیرس کر رہی ہیں جنہوں نے ابھی تک روپی کور کے ان ریمارکس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔








