اقوام متحدہ۔9فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ الائنس آف سویلائزیشنز( یو این اے او سی)پر زور دیا ہے کہ وہ اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے جو اب دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی اور نیو فاشسٹ جماعتوں کے منشور کا حصہ بن چکا ہے اور جس پر اسلامی دنیا کو شدید تشویش لاحق ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ …
اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جائیں، اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کا الائنس آف سویلائزیشنز کے گروپ آف فرینڈز کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔9فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ الائنس آف سویلائزیشنز( یو این اے او سی)پر زور دیا ہے کہ وہ اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے جو اب دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی اور نیو فاشسٹ جماعتوں کے منشور کا حصہ بن چکا ہے اور جس پر اسلامی دنیا کو شدید تشویش لاحق ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عامر خان نے یو این اے او سی کے گروپ آف فرینڈز کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر عالمی سطح پر عدم برداشت، امتیازی سلوک، نسل پرستی، منفی دقیانوسی تصورات اور تشدد خاص طور پر اسلاموفوبیا کے رجحان میں خطرناک اضافہ ہوا ہے جبکہ مذہبی برادریوں میں سے کوئی بھی امتیازی سلوک سے محفوظ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کا مقصد لوگوں اور ممالک میں تقسیم پیدا کرنا نہیں بلکہ ان کو متحد کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاہب میں تنوع سے قطع نظریہ بات ہمارے مفاد میں ہے کہ ایک دوسرے کے مذہبی عقائد کا احترام کریں، مذہبی امتیاز کی سب سے زیادہ پھیلی ہوئی شکلوں کو ختم کریں اور تشدد پر اکسانے جیسے عناصر کا مقابلہ کریں لیکن آج اسلاموفوبیا دائیں بازو اور نیو فاشسٹ جماعتوں کے منشور کا حصہ ہے جس میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی نسل کشی اور انہیں ملکوں سے نکالنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے،
حجاب پر سیاست کر کے اس پر پابندی عائد کی جاتی ہے، مقدس مقامات اور اسلامی علامات کی جان بوجھ کر توڑ پھوڑ کی جاتی ہے اوربعض صورتوں میں انتہائی امتیازی شہریت کے قوانین کو اپنایا جاتا ہے لہذا مسلمانوں اور مسلم معاشرے کے خلاف امتیازی سلوک، دشمنی اور تشدد پر مبنی کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور ان کے مذہب اور عقیدے کی آزادی کی خلاف ورزی ہیں جو اسلامی ممالک کے لیے شدید تشویش اور غصے کا باعث بنتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے حکام ، سیکرٹری جنرل، ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندوں سمیت متعدد عالمی رہنمائوں نے اجتماعی طور پر اسلامو فوبیا کے رجحان کا مقابلہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے اور یہی نہیں ہم بھی اقوام متحدہ کے لائنس آف سویلائزیشن پر زور دیں گے کہ وہ اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے اپنے پروگرام اور سرگرمیاں تشکیل دے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عامر خان نے کہا کہ اسلامو فوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا نشانہ بننے والے افراد کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا واضح مظاہرہ بہت سے مسلم ممالک میں عوامی تشویش کا جواب دینے میں معاون ثابت ہوگا۔








