اسلامی ماحولیاتی قانون عالمی سطح پر تسلیم، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کیمبرج ہینڈ بک میں شامل
اسلامی ماحولیاتی قانون عالمی سطح پر تسلیم، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کیمبرج ہینڈ بک میں شامل

مزید خبریں
اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):مقررین نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں اسلامی ماحولیاتی قانون کے تناظر میں اس نوعیت کا فیصلہ سامنے آیا جبکہ کیمبرج یونیورسٹی پریس کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو ہینڈ بک میں شامل کیا جانا پاکستانی عدلیہ کے لیے ایک اہم عالمی اعتراف ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’دی کیمبرج ہینڈ بک آف اسلام اینڈ انوائرنمنٹل لا‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ کتاب پائیدار ترقی کے پالیسی ادارے (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں پیش کی گئی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں 26ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 9-A شامل کیا گیا، جس کے تحت پائیدار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے اور یہ اسلامی تعلیمات، بالخصوص حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ اسلامی علمی روایت قرآن مجید کی آیات اور احادیث پر مبنی ہے، جن کے مطابق قدرتی وسائل انسانوں کو ایک مقررہ تناسب کے ساتھ عطا کیے گئے ہیں اور ان کے توازن کو بگاڑا نہیں جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا طویل عرصے سے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیے جیسے عالمی معاہدوں اور دستاویزات کی طرف دیکھتی رہی ہے جبکہ حضور اکرم ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع میں بھی انسانی حقوق کو بنیادی حیثیت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ زمین پر ہر انسان اللہ تعالیٰ کا محض امین ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ قدرتی وسائل کا تحفظ کرے۔ انہوں نے اس اصول کو آنے والی نسلوں کے لیے ’’پانی کے ایک گلاس‘‘ کی حفاظت سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں پانی کے اخراج سے متعلق تنازعات میں اس اصول کا پہلے ہی اطلاق کر چکی ہیں۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ یہ موضوع ’’کاپ31 ‘‘کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان کے ترکیہ اور آذربائیجان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی ماحولیاتی قانون کے اس تصور کو عالمی سطح پر مزید فروغ دیا جائے گا۔
ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ یہ کتاب انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں پاکستانی عدالتوں کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے جبکہ ایک پورا باب جسٹس جواد حسن کے تحریر کردہ فیصلے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاپ 31(COP31 )سے قبل کتاب کی رونمائی انتہائی بروقت ہے کیونکہ کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے تدارک، ماحولیاتی موافقت اور دیگر متعلقہ موضوعات پر بات چیت ہوگی۔ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ تمام مذاہب فطرت کے تحفظ پر زور دیتے ہیں تاہم اسلام اور شریعت کی فقہی روایت بالخصوص ماحول کے تحفظ کے حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایس ڈی پی آئی کاپ 31 کے موقع پر اسلام اور ماحولیاتی قانون کے موضوع پر ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد کرے گا۔
کیمبرج ہینڈ بک 27 ابواب پر مشتمل ہے، جس کے مصنفین 16 ممالک سے تعلق رکھنے والے 24 ماہرین ہیں۔کتاب کی تدوین بیری یونیورسٹی اسکول آف لا کی پروفیسر نادیہ بی احمد، پاکستان کالج آف لا کی پروفیسر صبا کریمی، ٹفٹس یونیورسٹی کی ارم کے ستار اور نائجیریا کی اولابیسی اونابانجو یونیورسٹی کی اولوواکیمی اے ایانلے نے کی ہے۔کتاب کا باب 16 شیخ عاصم فاروق بنام وفاقِ پاکستان کیس میں 2019 کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس جواد حسن نے تحریر کیا تھا اور اس میں ملک میں جنگلات کے تحفظ سے متعلق قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی ویمن ایمپاورمنٹ، ماحولیاتی حقوق اور جانوروں کے قوانین سے متعلق کمیٹیوں کی چیئرپرسن صبا فاروق نے ایس ڈی پی آئی کو کتاب کی رونمائی کرنے والا پہلا ادارہ ہونے پر مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ باعث فخر ہے کہ جسٹس جواد حسن کے فیصلے کو کتاب کے باب 16 میں شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کتاب کے تین ایڈیٹرز پاکستانی نژاد ہیں اور اس موضوع پر عوامی سطح پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اسلام اور ماحولیاتی قانون سے متعلق متعدد اہم عدالتی فیصلے سامنے آ چکے ہیں جن میں جسٹس جواد حسن کا ریستورانوں میں خوراک کے ضیاع کو روکنے سے متعلق فیصلہ اور عوامی طرز زندگی کو فطرت سے ہم آہنگ کرنے سے متعلق فیصلہ بھی شامل ہیں۔ کتاب کی مرکزی مدیر پروفیسر نادیہ بی احمد نے جسٹس جواد حسن کی علمی معاونت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کتاب کی رونمائی کی میزبانی پر ایس ڈی پی آئی اور ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ کتاب کا مقصد اسلامی علمی روایت، اس موضوع پر مسلم دنیا کی آواز اور اسلامی ماحولیاتی قانون میں ہونے والی علمی کاوشوں کے حوالے سے موجود خلا کو پُر کرنا ہے۔
اس میں سنی اور شیعہ دونوں فقہی روایات سے استفادہ کیا گیا ہے۔پروفیسر نادیہ احمد کے مطابق کتاب کی بنیاد اسلامی فقہ کے چار بنیادی اصولوں ’’میزان‘‘ یعنی توازن، ’’خلافت‘‘ یعنی نگہداشت و ذمہ داری، ’’امانت‘‘ یعنی سپرد کردہ ذمہ داری اور ’’حمیٰ‘‘ یعنی محفوظ علاقوں کے تصور پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدالتیں پہلے ہی اسلامی ماحولیاتی اصولوں کو محض جذباتی یا اخلاقی تصورات کے بجائے قابلِ نفاذ قانون کے طور پر تسلیم کر رہی ہیں۔ انہوں نے ان اصولوں کو شہری منصوبہ بندی اور وسائل کے انتظام کے لیے بھی انتہائی مؤثر قرار دیا۔ کتاب کی شریک مدیر پروفیسر صبا کریمی نے بتایا کہ اس منصوبے کا آغاز اس وقت ہوا جب پروفیسر نادیہ احمد کا اسلامی ماحولیاتی قانون پر ایک تحقیقی مقالہ اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ ایسا کوئی شعبہ موجود ہی نہیں۔ اس کے بعد ایک مکمل کتاب مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ اسلامی ماحولیاتی قانون ایک باقاعدہ اور قدیم علمی و قانونی روایت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی ماحولیاتی قانون کی تاریخ تقریباً 1500 سال پر محیط ہے اور آج بھی یہ ایک زندہ اور متعلقہ قانونی شعبہ ہے۔ کتاب کا مقصد اسلامی قانونی برادری میں اس موضوع پر استعداد پیدا کرنا بھی ہے، جس کے لیے ماحولیاتی معاملات کو خطرات اور حکمرانی کے تناظر میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ تقریب کے مباحث میں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کے سابق کنٹری ڈائریکٹر اور عالمی بینک کے کنسلٹنٹ گل نجم جمی نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کتاب کو ایک غیر معمولی علمی کاوش قرار دیتے ہوئے اس میں موجود تحقیقی کام کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ماحولیاتی پائیداری اور سرکلر اکانومی کی سربراہ زینب نعیم نے عالمی ماحولیاتی تحریکوں کی مثالیں دیتے ہوئے بھارت کی چپکو تحریک اور افریقہ میں وانگاری ماتھائی کی خدمات کا ذکر کیا۔
انہوں نے پاکستان کے شیلا ضیا کیس اور پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997 کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ماضی میں ان مثالوں کو اسلامی فقہ سے منسلک نہیں کیا گیا تھا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی قانونی امور کی منیجر نشمیہ خان نے کتاب کو ایک اہم علمی وسیلہ قرار دیا جس میں اسلام پر مبنی ماحولیاتی قوانین کے نفاذ کے لیے عملی مثالیں موجود ہیں۔ماحولیاتی قانون کے ماہر احمد رافع عالم نے پیاسے شخص کو پانی پلانے سے متعلق حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی قانون میں قدرتی وسائل کی نگہداشت اور ذمہ داری کے اصول کی ابتدائی مثالوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی دور میں ریلوے کی تعمیر کے نتیجے میں جنگلات کو قومی ملکیت میں لیا گیا، جس سے مقامی آبادی اپنے روایتی حقوق سے محروم ہوگئی۔ انہوں نے عاصم فاروق کیس کے فیصلے کو عوامی مفاد کی قانونی چارہ جوئی کی ایک نمایاں مثال قرار دیا۔







