اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد سے صرف وہی درخت ہٹائے گئے جو انسانی صحت کے لیے مضر تھے اور یہ عمل سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مکمل سائنسی سروے کے بعد کیا گیا ہے۔ 29ہزار 115 درخت کاٹ کر 10فٹ سے زائد لمبے 40 ہزار درخت لگائے ، 30 مارچ تک انہی جگہوں …
اسلام آباد میں گرین ایریا کم نہیں بلکہ بڑھا ہے، مضرِ صحت درخت عدالتی حکم پر ہٹائے گئے، طلال چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد سے صرف وہی درخت ہٹائے گئے جو انسانی صحت کے لیے مضر تھے اور یہ عمل سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مکمل سائنسی سروے کے بعد کیا گیا ہے۔ 29ہزار 115 درخت کاٹ کر 10فٹ سے زائد لمبے 40 ہزار درخت لگائے ، 30 مارچ تک انہی جگہوں پر مزید 60 ہزار درخت لگائیں گے ۔ ایم این اے محمد ریاض فتیانہ کے پوائنٹ آف آرڈ پرحکومت کی جانب سے وضاحت کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے قیام کے وقت فضا سے بیج پھینک کر جو شجرکاری کی گئی تھی، اس میں پیپر ملبیری جیسی اقسام اگ آئی تھیں جو الرجی اور دیگر بیماریوں کا باعث بن رہی تھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ 2009 اور 2024 کے عدالتی فیصلوں کے بعد ماہرینِ جنگلات کی کمیٹی بنائی گئی جس کی رپورٹ کی روشنی میں ان مضر درختوں کو ہٹانے کے لیے باقاعدہ ایس او پیز وضع کیے گئے۔ وزیر مملکت نے درختوں کی تعداد کے حوالے سے بتایا کہ اسلام آباد سے اب تک 29 ہزار 115 مضرِ صحت درخت ہٹائے گئے ہیں۔کٹائی کے بدلے اب تک 40 ہزار ایسے درخت لگائے جا چکے ہیں جن کا قد 10 فٹ سے زائد ہے۔رواں سال 30 مارچ تک مزید 60 ہزار درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جہاں ایک درخت ہٹانا پڑا، وہاں بدلے میں 4 گنا زائد پودے لگائے گئے۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ اسلام آباد کے گرین ایریا کی نگرانی سپارکو، گوگل میپ اور NDVI (این ڈی وی آئی) جیسے عالمی معیار کے طریقہ کار سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کے مطابق 2020 تک گرین ایریا میں کمی آئی تھی لیکن 2023 سے 2025 کے دوران اسلام آباد کے سبزے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ڈیڑھ سال میں ایک انچ بھی کمی ثابت نہیں کی جا سکتی۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے تجویز دی کہ صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ 23 مارچ یا 14 اگست کو ’’نیشنل پلانٹیشن ڈے‘‘ کے طور پر منایا جائے تاکہ ملک کے 25 کروڑ عوام اس مہم میں عملی طور پر شریک ہوں اور وزیراعظم سیکرٹریٹ خود اس کی نگرانی کرے۔ڈپٹی سپیکر نے معاملے کی اہمیت کے پیش نظر توجہ دلاؤ نوٹس متعلقہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کو ارسال کر دیا۔








