اسلام آباد کی سفارتی اہمیت کو اقتصادی طاقت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،طویل المدت اسلام آباد اکنامک ماسٹر پلان کا مطالبہ، سردار طاہر محمود صدر آئی سی سی آئی

اسلام آباد میں پاکستان کے انتظامی دارالحکومت سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری، جدت، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تجارت کے علاقائی مرکز بننے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم اس صلاحیت کو حقیقی معاشی مواقع اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع اور دور رس اقتصادی وژن درکار ہے

اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد میں پاکستان کے انتظامی دارالحکومت سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری، جدت، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تجارت کے علاقائی مرکز بننے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم اس صلاحیت کو حقیقی معاشی مواقع اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع اور دور رس اقتصادی وژن درکار ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے ہفتہ کے روز چیمبر ہاؤس میں ملاقات کے لیے آنے والے کاروباری رہنماؤں سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو سفارتی برادری، اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت، مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے، جدید انفراسٹرکچر اور عالمی سطح کی رسائی کے باعث ایک منفرد معاشی مقام حاصل ہے، مگر ان تمام خوبیوں کو ایک مربوط اقتصادی حکمت عملی کے تحت یکجا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ اسلام آباد کے لیے ایک طویل المدت اسلام آباد اکنامک ماسٹر پلان تیار کیا جائے، جس کے تحت ٹیکنالوجی، آئی ٹی سروسز، ڈیجیٹل تجارت، سرمایہ کاری، بزنس ٹورازم، بین الاقوامی کانفرنسز، تعلیم، صحت، مالیاتی خدمات اور دیگر علم پر مبنی شعبوں کو ترجیح دی جائے۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ اسلام آباد کے پاس مقام، صلاحیت، ادارے اور عالمی روابط سب موجود ہیں، اب ضرورت ایک ایسے معاشی وژن کی ہے جو ان تمام قوتوں کو یکجا کرکے انہیں سرمایہ کاری، کاروباری مواقع اور پائیدار ترقی میں تبدیل کرے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا ٹیکنالوجی ایکو سسٹم اور نوجوانوں کی صلاحیتیں ملک کا اہم معاشی اثاثہ ہیں، جنہیں جدید آئی ٹی و ٹیکنالوجی مراکز، عالمی معیار کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جامعات اور صنعت کے مضبوط روابط اور کاروبار دوست ریگولیٹری ماحول کے ذریعے عالمی منڈیوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔آئی سی سی آئی صدر نے کہا کہ بزنس ٹورازم اور اقتصادی سفارت کاری کو بھی اسلام آباد کی معاشی ترقی کا اہم ستون بنایا جانا چاہیے۔ دارالحکومت کی سفارتی اہمیت، خوبصورت ماحول اور بین الاقوامی اداروں کی موجودگی کو بروئے کار لا کر عالمی کانفرنسز، نمائشیں، سرمایہ کاری فورمز، تجارتی میلوں اور کارپوریٹ تقریبات کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جبکہ سفارتی مشنز کو وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں کے ساتھ کاروباری روابط، سرمایہ کاری شراکت داری اور بی ٹو بی روابط کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی معاشی تبدیلی کے لیے سرمایہ کار دوست اور جدید کاروباری انفراسٹرکچر بھی ناگزیر ہے، جس میں مؤثر پارکنگ اور ٹرانسپورٹ نظام، پیدل چلنے والوں کے لیے سہولیات، فائر سیفٹی، صفائی ستھرائی اور شفاف و قابلِ پیش گوئی ریگولیٹری نظام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی وفاقی حکومت، سی ڈی اے، مقامی انتظامیہ، سفارتی مشنز، جامعات اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر اسلام آباد کی معاشی ترقی کے لیے ایک قابلِ عمل اور قابلِ پیمائش روڈ میپ تیار کرنے کے لیے تیار ہے۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان کا دارالحکومت مواقع کا بھی دارالحکومت ہونا چاہیے۔ اسلام آباد ایسا شہر بنے جہاں عالمی کاروباروں کو پاکستان میں داخلے کا راستہ، سرمایہ کاروں کو اعتماد، کاروباری افراد کو ترقی کی گنجائش اور جدت کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو۔ یہی اسلام آباد کی نئی معاشی شناخت ہونی چاہیے۔

مزید خبریں