اسلام آباد۔21فروری (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقدام قتل کیس میں ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پسٹل کا ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائے تو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے، ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد اور جرم …
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقدام قتل کیس میں ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی

مزید خبریں
اسلام آباد۔21فروری (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقدام قتل کیس میں ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پسٹل کا ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائے تو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے، ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد اور جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم ضمانت کی رعایت کا حقدار نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے اقدامِ قتل کے ملزم فواد عرف مانی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کردی۔ ملزم پر مدعی کی اہلیہ اور بیٹے پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کرنے کا الزام ہے۔
تحریری فیصلے میں عدالت کا کہنا ہےکہ ریکارڈ کے مطابق مدعیہ شبانہ کے بیٹے کو اس واقعہ کے دوران تین گولیاں لگیں، دورانِ تفتیش ملزم کے قبضے سے وارادت میں استعمال پستول بھی برآمد کر لیا گیا،زخمیوں کو پہلے ہسپتال منتقل کرنا ایک قدرتی عمل ہے،چند گھنٹوں کی تاخیر سےکیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا، تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا ہےدفعہ 324 پی پی سی میں جسم کے نازک یا غیر نازک حصے کی کوئی تفریق نہیں ہے،گولی کا رخ حملہ آور کے اختیار میں نہیں ہوتا، پولیس فائل کے مطابق ملزم فواد عرف مانی کے خلاف پہلے بھی چار دیگر مقدمات درج ہیں ،
عدالت نے کہا ریکارڈ پر موجود مواد ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیے کافی ہے،وہ ضمانت کا حقدار نہیں،عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی ابزرویشن عارضی نوعیت کے ہیں ٹرائل کورٹ میرٹ پر فیصلہ کرتے وقت ان سے متاثر نہ ہو۔








