اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اسلام میں مذہب کی جبری تبدیلی کا کوئی تصور نہیں،حکومت ہماری اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے قانونی ، انتظامی اور پالیسی اقدامات جاری رکھے گی۔منگل کو ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق اسلام میں مذہب …
اسلام میں مذہب کی جبری تبدیلی کا کوئی تصور نہیں،حکومت اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے قانونی ، انتظامی اور پالیسی اقدامات جاری رکھے گی، ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اسلام میں مذہب کی جبری تبدیلی کا کوئی تصور نہیں،حکومت ہماری اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے قانونی ، انتظامی اور پالیسی اقدامات جاری رکھے گی۔منگل کو ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق اسلام میں مذہب کی جبری تبدیل کا کوئی تصور نہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں جبری تبدیلی کا کوئی ادارہ جاتی وجود نہیں ہے۔ زیادہ تر رپورٹ شدہ الزامات کی جب تحقیقات کی گئیں تو انکشاف ہوا کہ وہ یا تو فکشن اور سیاسی بنیادوں پر عالمی برادری میں پھیلائے گئے یا بین الاقوامی برادری میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے بد نیتی پر پر مبنی تھے۔ اس کی تازہ مثال بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے چلائے جانے والے غلط خبروں کے نیٹ ورک سے متعلق یورپی یونین ڈس انفو لیب کے انکشافات ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بعض افراد اور نان سٹیٹ ایکٹرزکی جانب سے جبری تبدیلی کے کچھ واقعات ہوئے ہیں لیکن اس میں کسی بھی ریاستی ادارے کی شمولیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جب بھی اور جہاں بھی اس طرح کے واقعات کی اطلاع ملی ہے تو تمام ریاستی اداروں نے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی ہے۔ترجمان نے کہا کہ کچھ واقعات میں ریاست فوری اور موثر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے عدالت میں مجرموں کے خلاف مقدمہ میں فریق بن گئی۔ترجمان نے کہا کہ ہماری ریاست کی بنیادیں پاکستان کے بانی قائداعظم کے وضع کردہ اصولوں پر مضبوطی سے رکھے گئے ہیں اور ملکی آئین میں اس کی بھر پو جھلک نظر اتی ہے۔ ہمارے اقلیتوں کو کسی بھی جبری تبدیلی سے بچانے کیلئے آئین کے علاؤہ قانونی اور انتظامی فریم ورک کے ذریعہ بھی تحفظ فراہم۔کیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہماری عدلیہ اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے بارے میں بہت چوکس اور واضح ہے۔اس کے علاؤہ ملکی آزاد میڈیا اور سول سوسائٹی کسی بھی اقلیتی برادری کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات کے خلاف اور احتساب اور شفافیت کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے آزاد مانیٹرز کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ترجمان نے کہا کہ تمام اقلیتیں پاکستان کے مساوی شہری ہیں اور اپنے مذہب کی تشہیر ، پریکٹس اور تبلیغ کے لئے آزاد ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اقلیتوں کا اہم کردار اور ہمیں ان پر فخر ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا ملک میں اقلیتوں کے تحفظ اور مساوی سلوک کے فریم ورک کو مستحکم کرنے کا وژن ان کے بیانات اور قوم سے پہلے خطاب میں عکاس ہے۔ اس کے علاؤہ وزیر اعظم بین الاقوامی سطح پر بھی ، وہ مذہب یا عقیدے کی آزادی کے معاملے پر اپنے واضح موقف کی وجہ سے قائدانہ کردار حاصل کر چکے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ اقلیتوں کے لئے قومی کمیشن بھی قائم کیا گیا ہے جو مکمل طور پر فعال اور آزاد ہے۔ مزید یہ کہ بین المذاہب ہم آہنگی کی ہماری قومی پالیسی اپنانے کے آخری مراحل میں ہے۔








