لاہور۔15فروری (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ فاضل زرعی پیداوار، خصوصا آلو جیسی اہم فصل کو کسی بھی صورت ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے ، اس طرح کا نقصان قیمتی قدرتی وسائل اور قومی دولت کے ضیاع کے مترادف ہے۔ لاہور میں ضلع اوکاڑہ کے علاقے رینالہ خورد سے تعلق رکھنے والے ترقی …
اضافی زرعی پیداوار ضائع کرنا قومی وسائل کےضیاع کے مترادف ہے، شاہد عمران

مزید خبریں
لاہور۔15فروری (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ فاضل زرعی پیداوار، خصوصا آلو جیسی اہم فصل کو کسی بھی صورت ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے ، اس طرح کا نقصان قیمتی قدرتی وسائل اور قومی دولت کے ضیاع کے مترادف ہے۔
لاہور میں ضلع اوکاڑہ کے علاقے رینالہ خورد سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران، جس کی قیادت چوہدری نذیر احمد آرائیں کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی معیشت ہے جہاں گندم، چاول، گنا، مکئی، پھل اور سبزیاں بڑی مقدار میں پیدا کی جاتی ہیں۔
تاہم ناکافی سٹوریج سہولیات، کمزور سپلائی چین اور ویلیو ایڈیشن کے فقدان کے باعث ہر سال اضافی پیداوار کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف کسانوں کو مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ فصلوں کی کاشت میں استعمال ہونے والے پانی، توانائی اور زمین جیسے وسائل پر بھی غیر ضروری دبائو پڑتا ہے۔
شاہد عمران نے اس امر پر زور دیا کہ گوداموں کو جدید خطوط پر استوار کرنے، کولڈ چین سسٹم متعارف کرانے اور فوڈ پروسیسنگ صنعتوں کو فروغ دینے کی فوری ضرورت ہے تاکہ اضافی پیداوار کو برآمد کے قابل اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موثر پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ اور ایگرو پروسیسنگ زونز کے قیام سے قیمتوں میں استحکام آئے گا، غذائی تحفظ یقینی بنے اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔








