اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہاہے کہ اضافی پیداوار کے باعث حکومت نے گزشتہ سال کسانوں اور شوگر انڈسٹری کو مالی نقصان سے بچانے کے لیے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جبکہ بعد ازاں صارفین کے مفاد میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے محدود درآمدات کی منظوری دی گئی۔بدھ کوقومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران انہوں نے …
اضافی پیداوار کے باعث حکومت نے گزشتہ سال کسانوں اور شوگر انڈسٹری کو مالی نقصان سے بچانے کے لیے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، وفاقی وزیرراناتنویرحسین کاقومی اسمبلی میں جواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہاہے کہ اضافی پیداوار کے باعث حکومت نے گزشتہ سال کسانوں اور شوگر انڈسٹری کو مالی نقصان سے بچانے کے لیے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جبکہ بعد ازاں صارفین کے مفاد میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے محدود درآمدات کی منظوری دی گئی۔بدھ کوقومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران انہوں نے ایوان کوبتایاکہ موسمیاتی عوامل کے باعث پیداوار کے اندازوں میں کمی آئی، ابتدائی طور پر چینی کی پیداوار سات ملین میٹرک ٹن کے قریب متوقع تھی تاہم عملی پیداوار تقریباً 6.8 ملین میٹرک ٹن رہی، جو اندازوں سے قریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن کم ہے۔ گھریلو ضروریات اور ذخائر کو مدِنظر رکھتے ہوئے قلت پیدا ہوئی، جس کے باعث محدود درآمدات ناگزیر ہوئیں۔
رانا تنویر نے کہاکہ بروقت حکومتی مداخلت سے قیمتیں 250 روپے فی کلو تک جانے سے رک گئیں اور زیادہ تر علاقوں میں، حتیٰ کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بھی، قیمتیں 200 روپے فی کلو کے لگ بھگ رہیں۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال چینی کی پیداوار 6.8 سے 7 ملین میٹرک ٹن کے درمیان متوقع ہے، جس سے قیمتوں کے استحکام میں مزید مدد ملے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیمتوں کا تعین وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں، جبکہ شوگر ایڈوائزری بورڈ صرف پیداوار کا جائزہ لے کر برآمد یا درآمد کی سفارش کرتا ہے۔صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 40 فیصد آبادی ذیابیطس یا متعلقہ امراض کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ چینی کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہے۔
انہوں نے عوامی آگاہی بڑھانے پر زور دیا اور بتایا کہ کئی ممالک میں چینی پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔رانا تنویر نے بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ڈی ریگولیشن سے متعلق اعلیٰ سطح کیکمیٹی، جس کی قیادت سردار اویس لغاری کر رہے ہیں، نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ منظوری کے بعد حکومت اینڈ ٹو اینڈ ڈی ریگولیشن کی جانب بڑھے گی۔ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو مناسب معاوضہ اور صارفین کو مناسب قیمتیں فراہم کرنے کے درمیان توازن پر قائم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر شوگر ملز سے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی اور کوئی کسان بلا ادائیگی نہیں رہا۔
انہوں نے معتبر زرعی ڈیٹا کی کمی کو ایک چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی و صوبائی معلومات کو یکجا کر کے قابلِ اعتماد ڈیٹا سسٹم تیار کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی بہتر ہو سکے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے تقریباً 3 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کی منظوری دی، جو پہلے بھی ایوان کو آگاہ کی جا چکی ہے۔ چینی مختلف بین الاقوامی منڈیوں، بشمول تھائی لینڈ اور برازیل، سے اوپن اور شفاف ٹینڈرنگ کے ذریعے حاصل کی گئی۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے تحت ٹینڈرنگ کا پورا عمل شفاف ہے اور اس کی لائیو کوریج بھی دستیاب ہوتی ہے۔ درآمدی چینی پر ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں رعایت صارفین کو ریلیف دینے کے لیے دی گئی۔
کھاد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں کھاد کی سپلائی چین مستحکم رہی، نہ قلت ہوئی اور نہ ہی قیمتیں مارکیٹ ریٹس سے بڑھیں۔آلو اور مکئی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں برآمدی نرخ کم ہونے کے باعث مقامی قیمتیں گری ہیں۔ مکئی جو گزشتہ سال تقریباً 100 روپے میں فروخت ہو رہی تھی، اب 70 سے 80 روپے کے درمیان ہے۔ گندم کے معاملے پر رانا تنویر نے کہا کہ بین الصوبائی نقل و حمل کے مسائل صوبوں کے ساتھ مل کر حل کیے جا رہے ہیں۔ پاسکو کے پاس وافر ذخائر موجود ہیں اور تمام صوبوں کو اپنی ضرورت کے مطابق گندم اٹھانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ قومی گندم پالیسی چاروں وزرائے اعلیٰ کے اتفاقِ رائے سے منظور ہو چکی ہے، جس کے تحت آئندہ بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مسلسل رابطہ اور معلومات کا تبادلہ جاری ہے تاکہ قومی غذائی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔








