سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعجاز احمد چوہدری کے خلاف 9 مئی مقدمات میں ضمانت منسوخی کے لیے دائر پنجاب پراسیکیوشن کی اپیلیں نمٹاتے ہوئے دو مقدمات میں ضمانت دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے
اعجاز احمد چوہدری کی دو مقدمات میں ضمانت برقرار، سپریم کورٹ نے پنجاب پراسیکیوشن کی اپیلیں نمٹا دیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعجاز احمد چوہدری کے خلاف 9 مئی مقدمات میں ضمانت منسوخی کے لیے دائر پنجاب پراسیکیوشن کی اپیلیں نمٹاتے ہوئے دو مقدمات میں ضمانت دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو مقدمے کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد رضا گیلانی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے 9 مئی مقدمات کے ٹرائل چار ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اعجاز احمد چوہدری کے خلاف 9 مئی سے متعلق 10 مقدمات میں سے 8 مقدمات پر فیصلے ہو چکے ہیں جبکہ ملزم اس وقت جیل میں ہیں۔دوران سماعت عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا جا رہا اور مقدمات کا ٹرائل جاری ہے۔بعد ازاں، سپریم کورٹ نے پنجاب پراسیکیوشن کی اپیلیں نمٹاتے ہوئے اعجاز احمد چوہدری کو دو مقدمات میں ضمانت دینے کا ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔








