اسلام آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی) وزارت خارجہ میںافریقی ممالک کی سفراء کانفرنس کے دوسرے روز کا دوسرا سیشن جمعرات کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایکسپورٹس سے وابستہ، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، سپورٹس، فارماسیٹیکل سیکٹر سمیت پرائیویٹ سیکٹر سے متعلقہ اہم شخصیات نے اپنے اپنے سیکٹر سے متعلقہ ایکسپورٹ کیلئے دستیاب مصنوعات اور درپیش مسائل /چیلنجز سے شرکاء کو آگاہ کیا۔چیئرمین …
افریقی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کیلئے وفود کے تبادلے اور بین الاقوامی نمائشوں میں پاکستان کی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں گے ، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی) وزارت خارجہ میںافریقی ممالک کی سفراء کانفرنس کے دوسرے روز کا دوسرا سیشن جمعرات کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایکسپورٹس سے وابستہ، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، سپورٹس، فارماسیٹیکل سیکٹر سمیت پرائیویٹ سیکٹر سے متعلقہ اہم شخصیات نے اپنے اپنے سیکٹر سے متعلقہ ایکسپورٹ کیلئے دستیاب مصنوعات اور درپیش مسائل /چیلنجز سے شرکاء کو آگاہ کیا۔چیئرمین ٹریڈ ڈویلمنٹ اتھارٹی نے "ایکسپورٹ کی شرح بڑھانے کیلئے ایکسپورٹ انڈسٹری کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔اجلاس میں افریقی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراء کے علاوہ کارپوریٹ سیکٹر کے مختلف شعبہ جات سے وابستہ شخصیات نے افریقی ممالک میں تجارت کے حجم کو بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز پیش کیں۔ چیف ایگزیکٹو ملت ٹریکٹرز نے وزیر خارجہ اور وزیر تجارت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے افریقی ممالک کو ملت ٹریکٹر کی سالانہ ایکسپورٹ اور افریقی ممالک میں زرعی آلات کی برآمدات کے حجم میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز دیں۔ مراکش میں تعینات پاکستانی سفیر نے پیشکش کی کہ اگر فارماسیٹیکل انڈسٹری، سپورٹس انڈسٹری، ٹیکسٹائل انڈسٹری اگر اپنے طور پر بھی مراکش میں اپنی مصنوعات کی نمائش کرنا چاہیں تو سفارت خانہ انہیں نمائش کیلئے جگہ فری آف کاسٹ مہیا کریگا۔اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افریقی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کیلئے وفود کے تبادلے اور بین الاقوامی نمائشوں میں پاکستان کی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں گے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی کمپنیاں کھیلوں کا سامان اور جراحی آلات بنا رہی ہیں انہیں افریقی ممالک کی مارکیٹ کے ساتھ منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو اپنی مصنوعات کو ڈبلیو ایچ او کی طرف سے دیے گئے معیار کے مطابق بنانا ہو گا تاکہ ان مصنوعات کی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔وزیر خارجہ نے تمام شرکاء کی شرکت اور ان کی جانب سے قیمتی تجاویز دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔








