کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، وزارت ریلوے کے لیے 10 ارب روپے سمیت مختلف وزارتوں اورڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، وزارت ریلوے کے لیے 10 ارب روپے سمیت مختلف وزارتوں اورڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارت ریلوے کے لیے 10 ارب روپے سمیت مختلف وزارتوں اورڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دیدی ہے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس جمعرات کویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کمیٹی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کردہ 17 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جن میں مالی وسائل تک رسائی، ترقیاتی اقدامات، بنیادی ڈھانچے، ادارہ جاتی اصلاحات اور مختلف شعبوں سے متعلق اقدامات شامل تھے۔

کمیٹی نے فنانس ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ اس سمری کی منظوری دی جس کے تحت سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک فنانسنگ فریم ورک تیار کیا ہے جس کا مقصد ایجنسی فنانشل انسٹی ٹیوشنز (اے ایف آئیز) کو ہول سیل اور ایجنسی انتظامات کے ذریعے حکومت کی جانب سے چھوٹے کاروباری اداروں اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے پہلے سے موجود رسک کوریج سکیموں میں شامل کرنا ہے، فریم ورک کا مقصد اہل مائیکرو فنانس اور نان بینکنگ مالیاتی اداروں کی وسعت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مالی وسائل تک رسائی کو وسیع کرنا ہے۔

اجلاس میں فنانس ڈویژن کی ایک اور سمری کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ فنڈ ی دوسری ضمنی ٹرسٹ ڈیڈ کے زریعہ موجودہ کریڈٹ گارنٹی سہولت کے زیادہ موثر استعمال کی راہ ہموار ہوگی اور سستے رہائشی فنانس کی فراہمی میں معاونت فراہم ہوگی۔اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے وزیراعظم کے وژن کے مطابق سمیڈا کے منظور شدہ بزنس پلان پر عملدرآمد کیلئے سمیڈا کے لیے 2 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے پیش کردہ سمری پر یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کی فوری مالی ضروریات پوری کرنے اور اس کی بندش کا عمل مکمل کرنے کے لیے 11.329 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی۔

اجلاس میں نجکاری ڈویژن کی سمری پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے لیے 8 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی، یہ رقم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تیاری اور عملدرآمد میں معاونت کے لیے استعمال کی جائے گی۔ای سی سی نے وزارت ریلوے کے لیے 10 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی جس کا مقصد تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے بجٹ میں مطلوبہ رقم کی فراہمی ہے اس سے بجلی کی پیداوار اور دیگر صنعتی شعبوں کے لیے مقامی کوئلے کے استعمال کو ممکن بنانے میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پیش کردہ سمری پر 596.18 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی، اس اقدام کا مقصد اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں بلدیاتی انتخابات، سندھ اور بلوچستان میں بلدیاتی ضمنی انتخابات اور پنجاب میں حلقہ بندیوں سے متعلق سرگرمیوں کے لیے سرنڈر کیے گئے فنڈز کی دوبارہ تخصیص اور دوبارہ توثیق کرنا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ایک الگ سمری پر بھی غور ہوا جس میں پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے لیے غیر حساس انتخابی سامان کی خریداری کی مد میں 17.873 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ کمیٹی نے تکنیکی ضمنی گرانٹ کے ذریعے فوری طور پر 2 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی۔وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی جانب سے پیش کردہ سمری پر کمیٹی نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے 300 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی، اس کامقصد مالی سال 2026-27 کے دوران وزیراعظم آفس اور وزیراعظم کی سٹاف کالونی سے متعلق ضروری مرمت و دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنا ہے ۔اجلاس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کیلئے 150 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی،اس کامقصد انطالیہ، ترکیہ میں منعقد ہونے والے کوپ31 کے 31 ویں اجلاس میں پاکستان کی شرکت سے متعلق ضروریات پوری کرنا ہے ۔

اجلاس میں پاکستان سپورٹس اینڈومنٹ فنڈ سکیم 2025 کے لیے بین الصوبائی رابطہ کاری کی وزارت کیلئے 934.481 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے پیش کردہ سمری پر کمیٹی نے چین میں 1000 زرعی ماہرین کی قلیل مدتی تربیت کے لیے وزیراعظم کے اقدام کے تحت 1666.176 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی۔ اس اقدام کا مقصد زرعی ٹیکنالوجی، جدت اور تحقیق کے شعبوں میں مہارت کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے 2026ء کی تمباکو فصل کے لیے کم از کم اشاریاتی قیمتوں اور 2026-27 کے لیے سیس کی شرحوں میں نظرثانی سے متعلق پیش کردہ سمری پر غور کیا گیا اور اس کی منظوری دیدی گئی۔ کمیٹی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پاسکو کے صوبائی حکومتوں سے واجب الادا بقایاجات کو براہ راست کٹوتیوں کے ذریعے ایڈجسٹ کرنے سے متعلق سمری پر بھی غور کیا۔

کمیٹی نے معاملہ موخر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت کے بعد تجویز دوبارہ پیش کی جائے۔ریونیو ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری پر ای سی سی نے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے ٹائروں کی درآمد پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے سے متعلق ایس آر او 693(I)/2006 میں ترمیم کی منظوری دی۔ اس اقدام کا مقصد مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے کمیٹی نے ریونیو ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ ایک اورسمری پر پاکستان ریونیو آٹومیشن کے لیے 4 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی تاکہ ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان پر جاری تنظیم نو اور عملدرآمد میں معاونت کی جا سکے۔

اجلاس میں وزارت تجارت کی جانب سے پیش کردہ سمری کی بھی منظوری دی جس کے تحت ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے وسائل کے منظور شدہ فریم ورک کے مطابق حکومتی سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ فنڈ کے وسائل کا پیداواری استعمال اور پائیدار مالیاتی انتظام یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وفاقی وزیر وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔