مویشیوں کی بہتر نسل صوبے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، محمد علی ملکانی

صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی نے کہا ہے کہ مویشیوں کی بہتر نسل کی افزائش کے ذریعے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے

حیدرآباد۔ 08 اکتوبر (اے پی پی):صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی نے کہا ہے کہ مویشیوں کی بہتر نسل کی افزائش کے ذریعے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، جس سے مویشی مالکان کی خوشحالی کے ساتھ ساتھ صوبے کی معیشت کو مستحکم اور قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد میں عالمی بینک کے منصوبے ایس ایل اے ڈی پی کے دفتر میں لائیو اسٹاک اور فشریز کے مختلف شعبوں میں جاری منصوبوں سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری لائیو اسٹاک و فشریز ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک سندھ ڈاکٹر حزب اللہ بھٹو، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک رجسٹریشن اینڈ ٹریڈ اتھارٹی ڈاکٹر نظیر حسین کلہوڑو، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک ایکسٹینشن و ریسرچ ڈاکٹر نعیم صدیق انصاری، ڈائریکٹر جنرل فشریز ان لینڈ و میرین ڈاکٹر عبداللطیف کورائی، ڈاکٹر عاصم کیریو، پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس ایل اے ڈی پی ڈاکٹر جاوید میمن، ڈائریکٹر اینیمل ہسبنڈری ڈاکٹر ارشد خانزادہ، اقتدار میمن، سعید عباسی، ڈاکٹر عبدالمنان کھوکھر، ڈپٹی سیکریٹری لائیو اسٹاک محمد عمران اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت نے بیرون ممالک سے بہتر نسل کے مویشیوں کے حصول کے ساتھ ساتھ اعلیٰ معیار کے مصنوعی بیج کی فراہمی کے ذریعے صوبے کے مویشی مالکان کو بہتر نسل کے مویشی پیدا کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں، جس کا مقصد دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینیمل بریڈنگ کا شعبہ سندھ کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، اس لیے اس شعبے کی استعداد بڑھانے اور جدید طریقوں کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ محمد علی ملکانی نے افسران کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کو شفاف اور مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ ان کے ثمرات صوبے کے عوام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے فشریز کے شعبے میں نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو بھی ترجیح دینے پر زور دیا۔صوبائی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ مویشیوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسینیشن کے موسمی پروگرام کے تحت مقررہ اہداف ہر صورت حاصل کیے جائیں اور ویکسین کی بروقت فراہمی و استعمال کو یقینی بنایا جائے۔