افغانستان میں غیرقانونی طالبان رجیم کےخلاف مسلح عوامی مزاحمت میں مزید شدت آگئی۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان پرقابض طالبان رجیم کو مختلف علاقوں میں عوامی سطح پر شدید مسلح مزاحمت کا سامنا ہے، مسلح گروہوں کے حملوں اوراندرونی اختلافات نے رجیم کے ملک پرکنٹرول کے دعوؤں کوبے نقاب کردیا۔ افغان میڈیا آماج نیوز کے مطابق صوبہ بدخشاں میں افغانستان فریڈم فرنٹ اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں4 طالبان اہلکار ہلاک …
افغانستان، طالبان رجیم کےخلاف مسلح عوامی مزاحمت میں مزید شدت آگئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):افغانستان میں غیرقانونی طالبان رجیم کےخلاف مسلح عوامی مزاحمت میں مزید شدت آگئی۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان پرقابض طالبان رجیم کو مختلف علاقوں میں عوامی سطح پر شدید مسلح مزاحمت کا سامنا ہے، مسلح گروہوں کے حملوں اوراندرونی اختلافات نے رجیم کے ملک پرکنٹرول کے دعوؤں کوبے نقاب کردیا۔ افغان میڈیا آماج نیوز کے مطابق صوبہ بدخشاں میں افغانستان فریڈم فرنٹ اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں4 طالبان اہلکار ہلاک اور7 زخمی ہوئے ۔
طالبان مخالف اتحاد نیشنل ریزسٹنس فرنٹ افغانستان کےمطابق بدخشاں کے ضلع راغ کوہستان میں مزاحمتی کارروائی کے دوران افغان طالبان کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ 6زخمی ہوئے ، جنگجووں کے حملے میں افغان طالبان کوبھاری مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا جبکہ کارروائیوں میں عام شہری محفوظ رہے ۔افغان طالبان کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کیلئے ملک بھر میں ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رہیں گی ۔
ماہرین کے مطابق بدخشاں،ہرات، تخاراوردیگرافغان صوبوں میں سرگرم مسلح تحریکیں جلد طالبان رجیم کے خاتمے کا باعث بنتی دکھائی دے رہی ہیں، افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت کا پھیلاؤ رجیم کی کمزور ہوتی گرفت اور بڑھتی عوامی بے چینی کی واضح علامت ہے۔







