افغانستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ، وہاں سے سرحدی حملے اور انسانی بحران بڑھ رہے ہیں، پاکستان

اقوام متحدہ ۔11دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا، سرحدی حملے اور انسانی بحران بڑھ رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ طالبان دہشت گرد گروہوں کی حمایت …

اقوام متحدہ ۔11دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا، سرحدی حملے اور انسانی بحران بڑھ رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ طالبان دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتے اور انہیں بلا روک ٹوک سرحد پار کارروائی کی اجازت دیتے ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں اور ان کے معاونوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جس کے تباہ کن نتائج پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان اور خطے میں سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ داعش کے القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، ای ٹی آئی ایم، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے گروہ افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانوں میں موجود ہیں اور سرحد پار حملے، خودکش دھماکے اور دیگر کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

مندوب نے بھارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخالف فریق نے افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو مالی، تکنیکی اور مادی مدد فراہم کر کے بڑھاوا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چار سال کے دوران طالبان حکام کے ساتھ باقاعدہ رابطے کیے مگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کی بجائے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا ۔ان کا کہنا تھا کہ 2025 میں افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان میں تقریباً 1,200 افراد جاں بحق ہوئے۔