افغانستان سے انخلا کے بعد امریکی ہتھیار خطے کی سکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ

اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):افغان طالبان رجیم کا دہشت گرد گروہوں کیساتھ منظم گٹھ جوڑ پوری دنیا پر آشکار ہو چکا ہے۔ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشتگرد امریکی اسلحہ ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کیلئے استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکی جریدہ دی جیو پالیٹکس نے بھی انکشاف کیا کہ ٹی ٹی پی(فتنہ الخوارج) افغانستان میں موجود امریکی ہتھیاروں سے پاکستان میں مسلسل دہشتگردی کر رہا …

اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):افغان طالبان رجیم کا دہشت گرد گروہوں کیساتھ منظم گٹھ جوڑ پوری دنیا پر آشکار ہو چکا ہے۔ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشتگرد امریکی اسلحہ ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کیلئے استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکی جریدہ دی جیو پالیٹکس نے بھی انکشاف کیا کہ ٹی ٹی پی(فتنہ الخوارج) افغانستان میں موجود امریکی ہتھیاروں سے پاکستان میں مسلسل دہشتگردی کر رہا ہے۔

دی جیو پالیٹکس کے مطابق ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) جدید ہتھیاروں سے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر مسلسل حملے کر رہی ہے، ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج ) نے خیبرپختونخوا میں دہشتگرد کارروائیاں اور پرتشدد حملے کئے۔ افغانستان میں موجود امریکی ہتھیاروں کی مالیت 7 ارب ڈالرسے زائد ہے۔ جدید امریکی فوجی ہتھیار جن میں ایم4،ایم 16رائفلیں ، نائٹ ویژن سائٹس اور سازوسامان افغانی دہشتگردوں کی دسترس میں ہے۔

امریکی جریدے کے مطابق امریکی ہتھیار افغانستان کی بلیک مارکیٹ میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو کھلے عام فروخت کیے جا رہےہیں۔ پاکستان بارہا شواہد کیساتھ ثابت کر چکا ہے کہ دہشت گرد افغانستان میں موجود امریکی ہتھیاروں سے حملہ آور ہیں۔ افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی میں دہشت گرد تنظیمیں خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔