اقوام متحدہ ۔ 21 نومبر (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن فوجی طاقت کا استعمال جاری رکھ کر نہیں بلکہ مذاکرات اور مفاہمت سے ہی ممکن ہے۔ جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ مذاکرات اور فوجی طاقت کا استعمال ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے …
افغانستان میں امن، فوجی طاقت کا استعمال جاری رکھ کر نہیں بلکہ مذاکرات اور مفاہمت سے ہی ممکن ہے، ڈاکٹر ملیحہ لودھی

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔ 21 نومبر (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن فوجی طاقت کا استعمال جاری رکھ کر نہیں بلکہ مذاکرات اور مفاہمت سے ہی ممکن ہے۔ جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ مذاکرات اور فوجی طاقت کا استعمال ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے اور دونوں کا ایک ساتھ استعمال افغانستان میں عدم استحکام اور افغان عوام کے مصائب میں اضافہ کرے گا۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے مسئلہ کے سیاسی حل پر زور دیا ہے اور وہ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں امن مذاکرات کے فروغ کے لئے تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔دنیا کے طاقتور ممالک کی طرف سے گذشتہ سولہ سال کے دوران فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہیں کیا جا سکا۔عالمی برادری یقیناً افغانستان میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن اس عمل کی قیادت افغان عوام کے ہاتھ میں ہی ہونی چاہیے۔








