پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی جانب سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ درحقیقت بھارت خود پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے
افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق بھارتی دعوے بے بنیاد ہیں، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔21مئی (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی جانب سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ درحقیقت بھارت خود پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان مشن کی کونسلر صائمہ سلیم نے بدھ کو ’’ مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ‘‘سے متعلق سلامتی کونسل کے مباحثے کے دوران بھارتی مندوب کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت کی پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کوئی فرضی بات نہیں بلکہ اس کی بھاری انسانی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔پاکستانی مندوب نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے بھارتی مستقل مندوب ہریش پروتھانی کے ان الزامات کو بھی رد کیا جن میں پاکستان پر 1971 میں’’نسل کشی‘‘ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔بھارتی مندوب نے یہ ردعمل اس بیان کے بعد دیا تھا جو اس سے قبل اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دیا، جس میں انہوں نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں کشمیری خواتین اور بچیوں پر بھارتی فوج کے مظالم کو اجاگر کیا تھا۔صائمہ سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج بھارت ایک بار پھر خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن دنیا اس نقاب کے پیچھے چھپے چہرے کو پہچان چکی ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست کا چہرہ ہے جو بیرونِ ملک دہشت گردی برآمد کرتی ہے، طاقت کے ذریعے لوگوں کو محکوم بناتی ہے، اپنے ملک میں اقلیتوں کو نشانہ بناتی ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے اور خطے میں جارحیت کو فروغ دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیمیں، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP)، بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور مجید بریگیڈ شامل ہیں، پاکستان میں مساجد، بازاروں، سکولوں اور عوامی مقامات پر حملوں کے ذریعے ہزاروں شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا چکی ہیں۔افغانستان کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز، اسلحہ گوداموں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف انتہائی محتاط اور پیشہ ورانہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں کیں، جن کا مقصد صرف دہشت گرد عناصر تھے، نہ کہ افغان عوام یا شہری تنصیبات۔انہوں نے طالبان حکومت اور بھارت کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو ’’گمراہ کن مہم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اس بات پر مایوسی ہے کہ پاکستان کے مؤثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے باعث افغان سرزمین استعمال کرنے والی دہشت گرد نیٹ ورکس ناکام ہو رہی ہیں۔صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر، جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، میں شہریوں کو قتل، گرفتار، بے دخل اور خاموش کیا جا رہا ہے، گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور بنیادی آزادیوں کو کچلا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوتوا انتہا پسندی کے زیرِ سایہ بھارت میں اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی گئی ہے، نفرت انگیز تقاریر کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، ہجوم کے تشدد کو سزا سے استثنا حاصل ہے، جبکہ مسلمان، سکھ، دلت اور عیسائی سمیت دیگر اقلیتیں روزانہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ پاکستانی مندوب نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے رویے کو بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ریاست لاکھوں پاکستانیوں کے پانی، خوراک اور روزگار کو خطرے میں ڈالے، وہ شہریوں کے تحفظ پر بات کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات، تنازعات کے پُرامن حل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے، جبکہ بھارت دہشت گردی، قبضے، جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔








