افغان طالبان رجیم سخت پابندیوں کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں مصروف، بے روزگاری اور اقتصادی مشکلات سے ہزاروں افغان خاندانوں کی زندگی اجیرن

اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):افغان طالبان رجیم سخت پابندیوں کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں مصروف ہے، افغان عوام کی زندگیاں اور بنیادی حقوق طالبان کی سفاکی اور دہشت گردانہ حکمرانی کی بھینٹ چڑھ گئے، بے روزگاری اور اقتصادی مشکلات نے ہزاروں افغان خاندانوں کی زندگی اجیرن کر دی، اقوامِ عالم کے سامنے افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا پردہ چاک ہو چکاہے۔ افغان میڈیا …

اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):افغان طالبان رجیم سخت پابندیوں کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں مصروف ہے، افغان عوام کی زندگیاں اور بنیادی حقوق طالبان کی سفاکی اور دہشت گردانہ حکمرانی کی بھینٹ چڑھ گئے، بے روزگاری اور اقتصادی مشکلات نے ہزاروں افغان خاندانوں کی زندگی اجیرن کر دی، اقوامِ عالم کے سامنے افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا پردہ چاک ہو چکاہے۔ افغان میڈیا کے مطابق بے روزگاری اور اقتصادی مشکلات نے ہزاروں خاندانوں کی زندگی مشکل کر دی، افغان نوجوان تعلیم چھوڑنے پر مجبور، کم تنخواہ پر کام کر کے بھی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق سیاسی ماحول کے فقدان اور طالبان کی نااہلی کی وجہ سے افغانستان میں سرمایہ کاری اور معاشی بحالی ممکن نہیں ۔ماہر نفسیات کی تحقیقات کے مطابق بڑھتی غربت اور بے روزگاری نوجوانوں میں نفسیاتی دباؤ اور خودکشی کے رجحان بڑھا رہی ہے۔ سینٹر فار سیویلیئنز ان کانفلکٹ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں شہریوں کی حفاظت کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ سفاک طالبان رجیم کی قیادت، خواتین پر پابندیاں اور بڑھتی ہوئی غربت نے افغانستان کو شدید معاشی بحران میں دھکیل دیاہے۔

مزید خبریں