تعلیم انفرادی زندگیوں کو بہتر بنانے اور مضبوط معاشروں کی تشکیل کا ایک مؤثر ذریعہ ہے،صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر پیغام

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر میں تمام پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اپنے ان مخلص اساتذہ، طلبہ، والدین، ماہرینِ تعلیم اور کمیونٹی ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کی انتھک کاوشیں ملک بھر میں تعلیم کے فروغ میں معاون ہیں۔

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر میں تمام پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اپنے ان مخلص اساتذہ، طلبہ، والدین، ماہرینِ تعلیم اور کمیونٹی ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کی انتھک کاوشیں ملک بھر میں تعلیم کے فروغ میں معاون ہیں۔

عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ اس سال کا عالمی یومِ خواندگی اس لئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ ہم عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں، عالمی موضوع ’’لوگوں، کرۂ ارض اور خوشحالی کے لئے خواندگی‘‘ کی روشنی میں یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواندگی محض پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کا نام نہیں بلکہ یہ لوگوں کو باخبر فیصلے کرنے، معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے علم اور اعتماد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم انفرادی زندگیوں کو بہتر بنانے اور مضبوط معاشروں کی تشکیل کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے لئے عالمگیر خواندگی کا حصول محض ایک ترقیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ بڑی تعداد میں بچے اب بھی باقاعدہ تعلیمی نظام سے باہر ہیں جبکہ بہت سے دیگر بچوں کو معیاری تعلیمی ماحول تک رسائی حاصل نہیں، لہٰذا ہمیں خواندگی کو محض ایک اعدادوشمار کے طور پر نہیں بلکہ اس مستقبل کی عکاسی کے طور پر دیکھنا چاہئے جو ہم اپنے ملک کے لئے تشکیل دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم سے محروم ہر بچہ ایک ضائع شدہ صلاحیت کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ علم اور ہنر حاصل کرنے والا ہر شہری ایک زیادہ باصلاحیت اور مضبوط پاکستان کی تعمیر کی ہماری صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلی کے دور میں تعلیم کے حوالے سے ہمارا طرزِ عمل بھی تبدیل ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی خواندگی کے ساتھ تنقیدی سوچ، ڈیجیٹل صلاحیتوں اور عملی مہارتوں کو بھی فروغ دینا ہوگا تاکہ لوگ تیزی سے علم پر مبنی عالمی معیشت میں مؤثر طور پر حصہ لے سکیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ تعلیم کے ثمرات پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے بچوں کے ساتھ ساتھ ان نوجوانوں اور بالغ افراد تک بھی پہنچیں جو رسمی تعلیم سے محروم رہ گئے ہیں۔ غیر رسمی تعلیم، تیز رفتار تعلیمی پروگراموں اور بالغوں کی خواندگی کے پروگراموں کو مضبوط بنانا ان سماجی و معاشی اور جغرافیائی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے جو مواقع تک رسائی محدود کرتی ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم اور انہیں بااختیار بنانا قومی ترجیح برقرار رہنا چاہئے۔

تعلیم یافتہ خواتین اپنے خاندانوں اور معاشروں کی صحت، تعلیم اور معاشی بہبود میں بہتر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہیں، خواتین کو تعلیم اور ہنر کی ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ایک ترقی پسند وفاق کی تعمیر کے لئے ناگزیر ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی انحطاط جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہماری کوششیں پائیدار ترقی کے ہدف 4 (SDG-4) کے لئے پاکستان کے عزم سے بھی ہم آہنگ ہیں جس کا مقصد سب کے لئے جامع اور مساوی معیاری تعلیم اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنج کی وسعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ خواندگی کو مشترکہ قومی ذمہ داری کے طور پر لیا جائے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں، نجی شعبے، سول سوسائٹی، مخیر حضرات اور پاکستانی تارکینِ وطن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ علم، جدت اور زندگی بھر سیکھنے کی قدر کرنے والے معاشرے کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں۔میں بالخصوص اپنے اساتذہ کی خدمات اور ان کی لگن کو سراہتا ہوں، جو آنے والی نسلوں کو تعلیم دینے اور ان کی شخصیت سازی کی اہم ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ قوم کی تعمیر میں ان کا کردار ہماری بھرپور عزت، ادارہ جاتی سطح پر اعتراف اور مسلسل تعاون کا مستحق ہے۔ایک عام خاندان کے لیے خواندگی روزمرہ زندگی میں عملی طور پر نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے۔ یہ والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم میں مؤثر طور پر شریک ہونے میں مدد دیتی ہے، لوگوں کو صحت اور عوامی خدمات سے متعلق معلومات سمجھنے کے قابل بناتی ہے اور نوجوانوں اور بالغ افراد میں تعلیم، روزگار اور دیگر مواقع کے حصول کے لیے اعتماد پیدا کرتی ہے۔

اس لیے خواندگی تک رسائی کو وسیع کرنا براہِ راست افراد اور خاندانوں کے لیے دستیاب مواقع پر اثرانداز ہوتا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ آئیے ہم سب مل کر ایسا پاکستان تعمیر کرنے کے لیے کام کریں جہاں علم مواقع، مساوات اور خوشحالی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے، اور جہاں خواندگی ہمارے عوام کو اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنے مستقبل کی تشکیل میں بامعنی کردار ادا کرنے کے قابل بنائے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہماری اجتماعی کاوشوں کی رہنمائی فرمائے اور انہیں برکت عطا کرے۔

 

مزید خبریں