پاک بحریہ جرات، عزت و وقار اور امتیاز کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہے گی، وزیراعظم شہباز شریف کا یوم بحریہ پر پیغام

وزیراعظم محمد شہباز شریف نےپاک بحریہ کے شہداء اور غازیوں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کے عزم، شجاعت اور ثابت قدمی کی یاد تازہ کرنے والا قابل فخر اور ولولہ انگیز دن ہے،2025ء کے معرکہ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے اسی جذبے اور اعلیٰ عملی تیاری کا مظاہرہ کیا،مجھے یقین ہے کہ پاک بحریہ اپنی شاندار …

اسلام آباد۔8 ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نےپاک بحریہ کے شہداء اور غازیوں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کے عزم، شجاعت اور ثابت قدمی کی یاد تازہ کرنے والا قابل فخر اور ولولہ انگیز دن ہے،2025ء کے معرکہ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے اسی جذبے اور اعلیٰ عملی تیاری کا مظاہرہ کیا،مجھے یقین ہے کہ پاک بحریہ اپنی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جرات، عزت و وقار اور امتیاز کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہے گی۔

پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے یوم بحریہ پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یوم بحریہ پاکستان کے موقع پر میں پاک بحریہ کے افسران، جوانوں اور اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو دِلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج کے اس تاریخی دن ہم پاک بحریہ کے شہداء، غازیوں، سابق اہلکاروں اور موجودہ افسران و جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن عزیز کے دفاع کے لیے اپنی بے مثال خدمات انجام دیں اور آج بھی جرات، قربانی اور فرض شناسی کے جذبے کے ساتھ اپنا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 8 ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کے عزم، شجاعت اور ثابت قدمی کی یاد تازہ کرنے والا ایک قابل فخر اور ولولہ انگیز دن ہے۔

اسی روز پاک بحریہ نے بھارتی بحری تنصیب دوارکا کے خلاف تاریخی آپریشن ’سومناتھ‘ کامیابی سے انجام دیا۔ ایک بڑی اور بھاری اسلحے سے لیس دشمن قوت کے مقابلے میں ہمارے بحری جہازوں نے انتہائی درستگی کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی اہم ساحلی تنصیبات کو تباہ کیا اور سمندر میں نفسیاتی برتری قائم کی۔ بحر ہند میں ہماری آبدوز ’غازی‘ کی موجودگی نے دشمن کی نقل و حرکت کو مزید مفلوج کر دیا اور بحری جنگ کی تاریخ میں ایک سنہرا باب رقم کیا۔انہوں نے کہا کہ 2025ء کے معرکہ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے اسی جذبے اور اعلیٰ عملی تیاری کا مظاہرہ کیا جس کے باعث عددی برتری رکھنے والا دشمن سمندر میں کسی بھی جارحانہ کارروائی سے باز رہا،موجودہ تزویراتی منظرنامے میں پاک بحریہ کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ پاک بحریہ ہماری بین الاقوامی بحری مواصلاتی گزرگاہوں اور تجارت کے لیے اہم بحری راستوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

آبنائے ہرمز پر حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری سرگرمیوں میں مشکلات کے تناظر میں پاک بحریہ نے ایک بار پھر اپنے عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقائی سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے باوجود پاکستانی پرچم بردار تجارتی جہازوں بالخصوص پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے جہازوں، کی بلا تعطل آمدورفت کو یقینی بنایا۔وزیر اعظم نے کہا کہ روایتی سلامتی کے تقاضوں سے بڑھ کر پاک بحریہ دنیا بھر میں پاکستان کی مثبت اور پرامن شناخت کے فروغ میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کی ’امن‘ مشق اور ’امن ڈائیلاگ‘ جیسے اقدامات کا مقصد عالمی بحری برادری کو ’امن کے لیے متحد‘ کرنا ہے۔

پاک بحریہ کو خطے میں عملی اور تکنیکی تعاون، بحری صنعتی روابط، باہمی تربیتی تبادلوں اور بحری سفارت کاری کے تناظر میں بھرپور خیرسگالی حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پاک بحریہ ہمارے سمندروں کی ایک مضبوط اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس محافظ قوت کے طور پر نمایاں ہے جس نے اپنی قیادت کے تزویراتی وژن اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وضع کیے گئے جدیدیت کے پروگرام کے تحت نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔

جدید ترین میلجم طرز کے کارویٹس، ہانگور کلاس آبدوز، مختلف نوعیت کے فضائی اثاثوں اور ملکی سطح پر تیار کیے گئے کروز اور بیلسٹک میزائلوں کی کامیاب شمولیت اس عزم کی عکاس ہے کہ ابھرتے ہوئے بحری چیلنجز سے موثر اور کارآمد انداز میں نمٹنے کے لیے پاک بحریہ کو جدید اور مخصوص صلاحیتوں سے لیس کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاکستان کے عوام کو پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور عملی تیاری پر مکمل اعتماد ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پاک بحریہ اپنی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جرات، عزت و وقار اور امتیاز کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہے گی۔

 

مزید خبریں