اسلام آباد ۔ 14 مارچ (اے پی پی) افغان وفد نے امریکہ طالبان امن معاہدے کے حوالے سے ممکنہ اتار چڑھاؤ پر اپنے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ توقع ہے پاکستان گذشتہ دو دہائیوں میں حاصل ہونے والی جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے لئے طالبان کو راضی کرے گا۔ان خیالات کا اظہار افغان وفد نے پاکستان کے دورہ کے دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل سیکورٹی …
افغان وفد کا دورہ پاکستان، معاون خصوصی برائے نیشنل سیکورٹی ڈویژن ڈاکٹر معید یوسف،سینیٹر شبلی فراز اور سیکرٹری خارجہ سے ملاقات افغان وفد کا امریکہ طالبان امن معاہدے کے حوالے سے ممکنہ اتار چڑھاؤ پر تحفظات کا اظہار، توقع ہے پاکستان حاصل ہونے والی جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے لئے طالبان کو راضی کرے گا،افغان وفد

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 مارچ (اے پی پی) افغان وفد نے امریکہ طالبان امن معاہدے کے حوالے سے ممکنہ اتار چڑھاؤ پر اپنے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ توقع ہے پاکستان گذشتہ دو دہائیوں میں حاصل ہونے والی جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے لئے طالبان کو راضی کرے گا۔ان خیالات کا اظہار افغان وفد نے پاکستان کے دورہ کے دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل سیکورٹی ڈویژن ڈاکٹر معید یوسف،سینیٹر شبلی فراز اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔افغان وفد خاتون پارلمنٹیرین فوزیہ کوفی،سابق گورنر ننگر ہار سلیم قندوزی اور سابق ڈپٹی وزیر تجارت مزمل شنواری پر مشتمل تھا۔افغان وفد نے اسلام آباد میںحاضر سروس و سابق سول و ملٹری حکام سے ملاقاتیں کیں ۔ان ملاقاتوں کے دوران افغانستان میں امن و امان کی بحالی اور دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے سے متعلق امور زیر بحث لائے گئے۔سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور ڈاکٹر معید یوسف افغان وفد کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خودمختار،جمہوری اور متحد افغانستان کی حمایت اور احترام کرتا ہے اور افغانستان کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دوحہ امن معاہدہ کے بعد انٹرا افغان مذاکرات کیلئے پر عزم ہے۔افغان وفد کو امن عمل خوراب کرنے والوں سے بھی خبر دار کیا گیا۔سیکرٹر ی خارجہ نے توقع ظاہر کی کہ عالمی برادری افغانستان میں مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گی۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ عوام کے مابین روابط اور انکا فروغ دونوں ملکوں کے مابین مشترکہ رشتوں کو مزید مستحکم کریگا۔ افغان وفد نے شبلی فراز سے انکے چیمبر میں ملاقات کی۔سینیٹر فراز نے وفد کو پارلیمنٹ کی جانب سے ہر ممکن حمایت و تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ افغانستان میںاستحکام نہ صرف افغان عوام بلکہ پاکستان کیلئے بھی یکساں اہمیت کاحامل ہے۔








