کراچی ۔ 17 مئی (اے پی پی) پاکستان سے رواں سیزن آم کی برآمدات کاآغاز 20مئی سے کیا جائے گا ، جبکہ ایکسپورٹ کا ہدف ایک لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر وحید احمد کے مطابق پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی(کلائمنٹ چینج) کے اثرات کی وجہ …
اقتصادی راہداری کے ذریعے چین کو پہلی مرتبہ زمینی راستے سے بھی آم برآمد کیا جائے گا ، سرپرست اعلیٰ پی ایف وی اے وحید احمد

مزید خبریں
کراچی ۔ 17 مئی (اے پی پی) پاکستان سے رواں سیزن آم کی برآمدات کاآغاز 20مئی سے کیا جائے گا ، جبکہ ایکسپورٹ کا ہدف ایک لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر وحید احمد کے مطابق پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی(کلائمنٹ چینج) کے اثرات کی وجہ سے آم کی پیداوار 35فیصد تک کم رہنے کی توقع ہے۔ آم کے حالیہ سیزن میں اقتصادی راہداری کے ذریعے پہلی مرتبہ چین کو زمینی راستے سے بھی آم ایکسپورٹ کیا جائے گا۔ وحید احمد کے مطابق رواں سیزن آم کی ایکسپورٹ کا ایک لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے 95سے 100ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ رمضان کے دوران آم کی آمد کی وجہ سے برآمدات کو بھی فائدہ ہوگا اور دنیا بھر میں پاکستانی آم روزے داروں کے دسترخوان کی زینت بنیں گے۔ رمضان کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے بھی برآمدی مالیت میں اضافہ ہوگا۔ پیداوار میں 50فیصد تک کمی کی وجہ سے گزشتہ سیزن کے لیے ایک لاکھ ٹن کا ہدف پورا نہیں ہوسکا تھا اور برآمدات 81ہزار ٹن تک محدود رہی تھیں۔








