اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ فوسل فیولز (روایتی ایندھن) موسمیاتی بحران کی بنیادی وجہ ہیں اور ماحولیاتی انصاف کے حصول کے لیے دنیا کو تیزی سے قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقل ہونا ہوگا
اقوامِ متحدہ نے فوسل فیولز کو موسمیاتی بحران کی بنیادی وجہ قرار دے دیا

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔21مئی (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ فوسل فیولز (روایتی ایندھن) موسمیاتی بحران کی بنیادی وجہ ہیں اور ماحولیاتی انصاف کے حصول کے لیے دنیا کو تیزی سے قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقل ہونا ہوگا۔شنہوا کے مطابق یہ بات انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ریاستوں کی ذمہ داریوں پر جاری کردہ مشاورتی رائے کے حوالے سے منظور کی گئی قرارداد پر اپنے بیان میں کہی۔انہوں نے قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے’’بین الاقوامی قانون، ماحولیاتی انصاف، سائنسی حقائق اور عوام کو بڑھتے ہوئے موسمیاتی بحران سے بچانے کے لیے ریاستوں کی ذمہ داری کا طاقتور اظہار‘‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ ممالک اور طبقات جو موسمیاتی تبدیلی کے سب سے کم ذمہ دار ہیں، سب سے زیادہ نقصان بھی وہی اٹھا رہے ہیں، اور اس ناانصافی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔انتونیو گوتریش نے زور دیا کہ عالمی برادری کو درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد میں رکھنے اور ایک محفوظ، منصفانہ اور مضبوط مستقبل کی تعمیر کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی نہ صرف سب سے سستی بلکہ توانائی کی فراہمی کا سب سے محفوظ ذریعہ بھی ثابت ہو رہی ہے۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کے روز عالمی عدالتِ انصاف کی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مشاورتی رائے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی، جس کے حق میں 141 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ 8 ممالک نے مخالفت اور 28 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔قرارداد میں جولائی 2025 میں عالمی عدالتِ انصاف کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ریاستوں کی ذمہ داریوں پر جاری کردہ مشاورتی رائے کا خیرمقدم کیا گیا اور اسے موجودہ بین الاقوامی قانون کی وضاحت میں ایک مستند اور اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔قرارداد میں تمام ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے ماحول اور موسمیاتی نظام کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔








