اقوام متحدہ ۔18نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو ایک قرارداد منظور کی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی، جس کے تحت ایک بین الاقوامی فورس اور عارضی "بورڈ آف پیس"قائم کیا جائے گا۔ سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 13 نے حمایت کی، جبکہ چین اور روس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔پاکستان کے سفیرعاصم …
اقوام متحدہ میں غزہ میں بین الاقوامی فورس اور امن بورڈ کی توثیق ، پاکستان کا فلسطینی خودمختاری پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔18نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو ایک قرارداد منظور کی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی، جس کے تحت ایک بین الاقوامی فورس اور عارضی "بورڈ آف پیس”قائم کیا جائے گا۔ سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 13 نے حمایت کی، جبکہ چین اور روس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔پاکستان کے سفیرعاصم افتخار احمد نے اس موقع پر قرارداد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے اس منصوبے کی حمایت ’صرف ایک بنیادی مقصد کے تحت کی جس میں خونریزی روکنا، خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ فلسطینیوں کی جانیں بچانا، جنگ بندی برقرار رکھنا اور غزہ سے اسرائیلی فورسز کے مکمل انخلا کو یقینی بنانا شامل ہے،انہوں نے واضح کیا کہ غزہ میں انتظامی اور نفاذی اختیار فلسطینی کمیٹی کے پاس ہی رہنا چاہیے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک ’بورڈ آف پیس‘ میں حصہ لے سکتے ہیں جس کا تصور ایک عبوری اتھارٹی کا ہے جو غزہ کی تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کی نگرانی کرے گی۔اس میں بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد غزہ کو غیر عسکری بنانا ہے، جس میں ہتھیار جمع کرنا اور عسکری ڈھانچے کو تباہ کرنا شامل ہے۔صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ قرارداد کے ساتھ ایک ضمیمے کی صورت میں شامل ہے۔
قرارداد میں”بورڈ آف پیس” کو عارضی انتظامی کردار دیا گیا ہے ،بین الاقوامی سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف ) کے قیام کی اجازت دی گئی ہے، جو”بورڈ آف پیس”کے قیام کردہ متحدہ کمانڈ کے تحت کام کرے گی۔ پاکستانی سفیر نے زور دیا کہ فلسطینی خودمختاری اور ریاست قائم کرنا امن عمل کا حتمی مقصد ہونا چاہیےاور فلسطینی اتھارٹی کی مرکزی حیثیت برقرار رہنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کا کردار اور "بورڈ آف پیس” اور آئی ایس ایف کی تفصیلات واضح ہونی چاہیے تاکہ امن کی کوششیں مؤثر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ووٹ فلسطینیوں، عرب گروپ اور 8 رکنی عرب۔اسلامی گروپ (سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، انڈونیشیا اور ترکیہ)کے مؤقف کے مطابق دیا گیا، جنہوں نے اس سال کے اوائل میں ٹرمپ کے منصوبے کی توثیق کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ووٹ فلسطین اور عرب گروپ کے مؤقف کی روشنی میں دیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ سفارتی کوششوں کا مقصد جنگ کا خاتمہ، انسانی امداد تک رسائی کو یقینی بنانا، جبری بے دخلی کو روکنا اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستے کی حمایت کرنا تھا۔پاکستانی مندوب نے بتایا کہ پاکستان نے مذاکرات کے دوران فعال کردار ادا کیا، عرب تجاویز کی حمایت کی اور اپنے ترمیمی نکات بھی پیش کیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قرارداد کا متن فلسطینی مسئلے پر ’بین الاقوامی قانونی جواز‘ کے مطابق ہو۔
انہوں نے بعض تجاویز شامل کیے جانے کا خیرمقدم کیا، مثلاً فائربندی برقرار رکھنے کے صریح مطالبے کا اضافہ اور سلامتی کونسل کو باقاعدہ رپورٹنگ کی شرط۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے واضح سیاسی راستہ، فلسطینی اتھارٹی کا حکمرانی اور تعمیر نو میں مرکزی کردار، اور اقوامِ متحدہ کی بڑھتی ہوئی شمولیت، یہ سب نہایت اہم پہلو ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ آنے والے ہفتوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے سے وہ ضروری وضاحت مل سکے گی۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی مستقل پالیسی کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی امن منصوبہ اسی وقت قابلِ قبول ہوگا جب وہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر مسلسل فلسطینی ریاست کی تشکیل کی طرف لے جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔انہوں نے زور دیا کہ موجودہ سلامتی کونسل کی قراردادیں مکمل طور پر قابلِ عمل‘ ہیں، اور خبردار کیا کہ نئی قرارداد قائم شدہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں کسی قسم کی تبدیلی یا کمی کا باعث نہیں بننی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حقِ خود ارادیت ’بنیادی اور غیر مشروط ہےاور اسے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔سفیر نے کہا کہ مجوزہ بورڈ آف پیس ایک عارضی نگرانی کا نظام ہونا چاہیے، جس کا مینڈیٹ 2027 میں ختم ہو جائے، جب تک اسے دوبارہ نہ بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں انتظامی و عملی اختیار فلسطینیوں کے پاس ہی رہنا چاہیے، اور یہ ایک فلسطینی کمیٹی کے ذریعے ہونا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو حکمرانی اور تعمیر نو میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو نظرانداز کر کے امن حاصل نہیں کیا جا سکتا، ایسی تمام پالیسیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے جو فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرتی ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے آئی ایس ایف کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورس اُس وقت ہی استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے جب وہ اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے مطابق واضح مینڈیٹ کے تحت کام کرے۔انہوں نے کہا کہ غیر مسلح کرنا ایک سیاسی مذاکراتی عمل کے ذریعے متحدہ فلسطینی قومی اتھارٹی کے تحت ہونا چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کی یکطرفہ خلاف ورزیاں پورے عمل کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں اور سب کچھ ناکام بنا سکتی ہیں، اور زور دیا کہ آئی ایس ایف کا مینڈیٹ اُس وقت ہی مؤثر ہوگا، جب مکمل اسرائیلی انخلا ہو چکا ہو۔غزہ میں تباہی کے پیمانے کا ذکر کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں 69 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید کیے جاچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس امید کی ایک کرن ثابت ہوئی ہے۔عاصم افتخار نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتبار اور قابل میعاد کارروائی کی حمایت کرے، انہوں نے زور دیا کہ کوئی الحاق یا کوئی جبری بے دخلی نہیں ہونی چاہیے، اور یہ کہ مغربی کنارے اور غزہ کی مسلسل جغرافیائی وحدت ایک قابلِ عمل ریاست کے لیے ضروری ہے۔
مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ، فلسطینی اتھارٹی اور فلسطینی عوام کو حکمرانی، تعمیرِ نو اور ادارہ جاتی مضبوطی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا دکھ ہمارا درد ہے، ان کی ثابت قدمی ہمارا فخر ہے، ان کی امنگیں ہمارا مقصد ہے اور یہ کہ پاکستان ان کے حقِ خود ارادیت کی مکمل تکمیل تک ان کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔








