اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کے اسرائیلی بلوں پرتنبیہ

اقوام متحدہ ۔3جنوری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ ترین انسانی حقوق کے عہدیدار نےاسرائیلی حکام کو خبردار کیا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے لازمی سزائے موت متعارف کرانے والے مجوزہ قوانین کو ترک کیا جائے، کیونکہ یہ تجاویز بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی حقوق کے معیارات کی صریح خلاف ورزی ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی کنیسٹ …

اقوام متحدہ ۔3جنوری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ ترین انسانی حقوق کے عہدیدار نےاسرائیلی حکام کو خبردار کیا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے لازمی سزائے موت متعارف کرانے والے مجوزہ قوانین کو ترک کیا جائے، کیونکہ یہ تجاویز بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی حقوق کے معیارات کی صریح خلاف ورزی ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی کنیسٹ میں زیرِ غور مسودہ قوانین امتیازی سلوک، منصفانہ عدالتی عمل کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی انسانی حقوق و انسانی ہمدردی کے قوانین کی پامالی سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دیتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سزائے موت کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کا مؤقف بالکل واضح ہے اور ہم ہر صورت اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس طرح کی سزا کو انسانی وقار کے ساتھ ہم آہنگ کرنا نہایت مشکل ہے اور اس میں بے گناہوں کو پھانسی دیے جانے کا ناقابلِ قبول خطرہ موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ مجوزہ قوانین کے تحت سزائے موت کے اطلاق کے لیے معیار کو کم کیا جا رہا ہے اور لازمی سزائیں متعارف کرائی جا رہی ہیں، جس سے عدالتوں کے صوابدیدی اختیارات ختم ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام حقِ حیات کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق (آئی سی سی پی آر ) کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں سے متصادم ہے۔

ہائی کمشنر نے مزید کہا کہ یہ تجاویز اس بنیاد پر بھی انسانی حقوق کے لیے تشویش ناک ہیں کہ ان کا اطلاق صرف فلسطینیوں پر ہوگا، جو اکثر غیر منصفانہ عدالتی کارروائیوں کے بعد سزا پاتے ہیں۔ ان کے مطابق مسودہ قوانین کی زبان اور اسرائیلی سیاست دانوں کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ان قوانین کا ہدف صرف فلسطینی ہوں گے۔بیان کے مطابق مجوزہ ترامیم کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں نافذ فوجی قوانین میں تبدیلی کی جائے گی، جس کے تحت دانستہ قتل کے تمام مقدمات میں فوجی عدالتوں کو لازمی سزائے موت سنانا ہوگی۔

اس کے علاوہ اسرائیلی تعزیراتی قانون میں بھی ترمیم کی جائے گی تاکہ دہشت گردی کے کسی واقعے میں اسرائیلی شہری کے قتل پر سزائے موت دی جا سکے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق ان ترامیم کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر بھی ہو سکتا ہے، جن میں 7 اکتوبر 2023 کے حملے شامل ہیں، جن میں حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے جنوبی اسرائیل میں کارروائی کے دوران 1,200 سے زائد اسرائیلی اور غیر ملکی شہری ہلاک جبکہ 250 سے زائد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔اس کے بعد غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اب تک 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کے جاں بحق اور بڑی تعداد میں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی بدستور برقرار ہے، جس کے باعث امدادی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہوا ہے، تاہم طبی سہولیات ناکافی ہیں اور امن منصوبہ تاحال تعطل کا شکار ہے۔

مزید خبریں