اقوام متحدہ ۔16دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی بے بنیاد اور بے جا تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کے آئین میں ترامیم اس ملک کے عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے اور کسی غیر ملکی کو اس پر بات کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔پاکستانی مندوب گل قیصر سروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں "قیادت برائے …
اقوام متحدہ ، پاکستان نے بھارت کی آئینی و قانونی عمل پر تنقید کو مسترد کر دیا

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔16دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی بے بنیاد اور بے جا تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کے آئین میں ترامیم اس ملک کے عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے اور کسی غیر ملکی کو اس پر بات کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔پاکستانی مندوب گل قیصر سروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں "قیادت برائے امن'”کے موضوع پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پاس پاکستان کے آئینی عمل پر سوال اٹھانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔
یہ بیان انہوں نے بھارتی مندوب ہریش پروتھانینی کے حالیہ بیانات کے جواب میں دیا، جن میں پاکستان کے اندرونی معاملات ، بشمول حالیہ منظور شدہ 27ویں آئینی ترمیم، پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ہندوستانی ایلچی اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد کے بیان پر رد عمل کا اظہار کر رہے تھے، جنہوں نے 15 رکنی کونسل کے مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ لیکن غیر حل شدہ مسئلہ کشمیر کو کو اٹھایا، اور بھارتی حکومت کی طرف سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بھی اجاگر کیا۔اپنے بیان میں،بھارتی مندوب نے دعویٰ کیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے۔
پاکستانی مندوب نے بھارتی دعووں کو غلط فہمیوں پر منبی قرار دیا۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ بھارت کے پاس پاکستان کے آئینی عمل پر سوال اٹھانے کاکوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کسی کو بھی ایسی ریاست سے جمہوریت، یا قانون کی حکمرانی کے بارے میں کسی سبق کی ضرورت نہیں ہے جس کا اپنا طرز عمل ان اصولوں سے واضح طورپر متصادم ہو۔ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے حوالے سےپاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت خود اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لایا اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کرنے کی اجازت دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ عہد ادھو رہ گیا ہے، بھارت نے جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے، بنیادی آزادیوں کو دبایا، آزادی کی آوازوں کو خاموش کروایا ، اور اب بھی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں ا یسے اقدامات جا ری ہیں جن کا مقصد بین الاقوامی قانون اور قابض طاقت کے طور پر اس کی قانونی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئےعلاقے کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ میں یہ دوبارہ سے واضح کردوں کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہی مستقبل میں ہوگا۔ ہندوستان کے دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ وہ اپنی سرحدوں کے پار دہشت گردی کی سرپرستی،بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے ارتکاب، شمالی امریکا سمیت عالمی ریاستی حمایت یافتہ قتل کی مہم، اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کی ریاستی سرپرستی کے اپنے ریکارڈ کو نہیں چھپا سکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں حملے کرنے والے ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج، اور بی ایل اے، فتنہ ہندوستان سمیت دہشت گرد گروپوں کی بھارت کی سرپرستی کےٹھوس ثبوت موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری اور تحمل سے کام لیا ہے، اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے، ایک موثر اور نپے تلے ردعمل کے ذریعے، جیسا کہ حال ہی میں مئی 2025 میں ہوا تھا، پہلگام واقعے پر ہندوستان کے دعووں کو "جھوٹا اور قابل پیشن گوئی” قرار دیا۔اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے واقعے کی آزادانہ اور قابل اعتماد تحقیقات کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاست کا یہ طرز عمل ایک بدمعاش رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو جج، جیوری اور جلاد کا کردارخود ادا کرتا ہےاور بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں بھارت نے خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت تھی اور اس جارحیت کا ہندوستان کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔ اس ہندوستانی جارحیت میں ہندوستانی فوج سمیت اور ہوابازی کے اثاثوں کو نقصان پہنچا اور پاکستان نے اس جارحیت میں حصہ لینے والے متعدد ہندوستانی طیاروں کو مار گرایا ۔انہوں نے سندھ طاس معاہدے پر ہندوستان کے ریمارکس کو "حقائق کو جان بوجھ کر مسخ کرنے اور ایک پابند بین الاقوامی معاہدے کی غلط تشریح قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کی کوئی شق اس معاہدے کی یکطرفہ طور پر معطلی یا ترمیم یا نام نہاد معطلی کی اجازت نہیں دیتی۔
اس طرح کے اقدامات تنگ سیاسی فائدے کے لیے پانی کو ہتھیار بنانے کے مترادف ہیں۔پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ عدالت ثالثی کے 2025 کے ایوارڈ نے معاہدے اور اس کے تنازعات کے تصفیہ کے طریقہ کار کے جاری رہنے کی توثیق کی، پاکستان کے اس موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہ تمام اختلافات کو معاہدے کے قانونی فریم ورک کے اندر سختی سے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی بحث کی رو سے امن کی قیادت کا مطالبہ ہے کہ بھارت انکار ترک کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ ختم کرے اور دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی بند کرے۔








