اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس، پاکستان کا مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی آبادکاری میں توسیع روکنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ
اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس، پاکستان کا مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی آبادکاری میں توسیع روکنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔29ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ فلسطینی علاقے بشمول مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی آبادکاروں کی سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے اور جاری تشدد سے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عثمان جدون نے گزشتہ روز مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نےغیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کے حوالے سے برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی پابندیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں اور انہیں برقرار رکھنے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا چاہیے۔ پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ غزہ اور مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس ایک ہی جغرافیائی وحدت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو مزید انتظار نہیں کرنا چاہیے۔یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات دو محاذوں پر دبائو کا شکار ہیں۔
مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد اور اسرائیلی بستیوں میں توسیع نے دو ریاستی حل کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھا دیئے ہیں جبکہ غزہ میں ایک سال قبل پیش کیے گئے امن منصوبے پر پیش رفت رک گئی ہے اور شہریوں کی مشکلات بدستور جاری ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ امن منصوبے کے باقی مراحل، جن میں اسرائیل کا مکمل انخلا شامل ہیں، تاحال نافذ نہیں کیے گئے جبکہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیلی آبادکاری کی غیر قانونی حیثیت بھی تنازع کا ایک اہم نکتہ ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہماری اجتماعی کوششوں کا محور ایک ایسے قابلِ اعتماد، واضح مدت کے حامل اور ناقابلِ واپسی سیاسی عمل پر ہونا چاہیے، جو اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل فلسطینی مسئلے کے لیے عالمی سطح پر متفقہ فریم ورک اور منصفانہ و پائیدار امن کی ناگزیر بنیاد ہے۔ انہوں نے اسرائیلی اقدامات کے ذریعے اس مشترکہ عزم کو کمزور کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا، جن کے نتیجے میں زمینی حقائق کو مستقل طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی مندوب غیر قانونی آبادکاری میں توسیع فلسطینی علاقوں کی آبادیاتی اور جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی ایک منظم حکمت عملی کے طور پر جاری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ای ون منصوبے پر تیزی سے پیش رفت سے ، جس کے تحت 3,401 رہائشی یونٹس کے لیے ٹینڈرز جاری کیے گئے ہیں، فلسطینی علاقوں کے باہمی جغرافیائی ربط کو ختم کرنے اور ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے اور صرف رواں سال 1,600 سے زائد حملے ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی شہریوں کے خلاف یہ منظم حملے احتساب سے استثناکے باعث ممکن ہوئے اور انہیں ریاستی نظام کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادکاروں کے تشدد کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری، اراضی پر قبضے، جبری بے دخلی اور اسرائیلی انتظامی کنٹرول میں توسیع نے الحاق کے عمل کو مضبوط اور امن کی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ غزہ کی صورتحال کے بارے میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ آنے والا سردیاں پہلے ہی سنگین انسانی بحران کو مزید گہرا کرسکتی ہیں جبکہ تقریباً 30 فیصد غزہ کے علاقے تک محدود آبادی انتہائی خراب حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 1,400 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جو آبادی کے موثر تحفظ کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستانی مندوب نے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئےکہا کہ تمام آبادکاری کی سرگرمیاں بند کی جائیں، آبادکاروں کا تشدد روکا جائے، احتساب یقینی بنایا جائے اور الحاق کو توسیع دینے والے اقدامات واپس لیے جائیں۔ انہوں نے غزہ کے امن سے متعلق قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا، جس میں جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور تعمیرِ نو شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے اور غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی یا فلسطینی علاقے پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کیا جانا چاہیے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ روکے گئے محصولات کی رقم جاری کرکے فلسطینی اتھارٹی کو بااختیار بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ فلسطینی عوام کو مزید انتظار نہیں کرنا چاہیے۔








