اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کی قائم مقام انڈرسیکرٹری جنرل خالد خیری سے ملاقات میں گفتگو

اقوام متحدہ ۔ 28 اگست (اے پی پی) پاکستان نے کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کی مانیٹرنگ کے لئے تعینات اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ ( یواین ایم او جی آئی پی) کو مستحکم بنانے کی تجویز دے دی ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے یہ تجویزبھارت کی طرف سے مقبوضہ وادی کے غیر قانونی الحاق کے باعث دونوں پڑوسی ممالک کے …

اقوام متحدہ ۔ 28 اگست (اے پی پی) پاکستان نے کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کی مانیٹرنگ کے لئے تعینات اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ ( یواین ایم او جی آئی پی) کو مستحکم بنانے کی تجویز دے دی ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے یہ تجویزبھارت کی طرف سے مقبوضہ وادی کے غیر قانونی الحاق کے باعث دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کے پس منظر میں دی ہے۔پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے پیس کیپنگ مشن کے اعلیٰ حکام اور سفارتکاروں کے ساتھ اجلاس کے دوران انہیں مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا ،جہاں جاری کرفیو اور لاک ڈاﺅن چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے ۔انہوں نے یواین ڈیپارٹمنٹ آف پیس کیپنگ آپریشنز اینڈ پولیٹیکل اینڈ پیس بلڈنگ افیئرز کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل خالد خیری پر زور دیا کہ کنٹرول لائن پر سیز فائر کی نگرانی کے لئے تعینات اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کی مانیٹرنگ مستحکم بنائی جائے جس کی بھارت مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے ۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ رات کے اوقات میں بھارت کے سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث کنٹرول لائن کی قریبی آبادیوں میں خوف وہراس کی فضاءپائی جاتی ہے۔ انہوں نے قائم مقام سیکرٹری جنرل کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کے باعث ایک بڑے بحران کا خدشہ ہے اور اقوام متحدہ کو ایسی امکانی صورتحال کے خاتمہ اور خطہ میں امن کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان اور بھار ت کے درمیان سیز فائر کی نگرانی کے لئے یواین ایم او جی آئی پی جنوری 1949ءمیں قائم کیا گیا تھا ۔پاکستان اقوام متحدہ کے مبصرین کو لائن آف کنٹرول کی نگرانی کی اجازت دیتا ہے جبکہ بھارت اس کی اجازت نہیں دیتا ۔مبصرگروپ 44 فوجی مبصرین پر مشتمل ہے جس کی معاونت 25 بین الاقوامی سویلین اہلکار اور 47 مقامی سویلین عملہ کرتا ہے۔

مزید خبریں