اقوام متحدہ ناکافی فنڈنگ کے سبب مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی موثر نگرانی سے قاصر ہے،مقررین

اقوام متحدہ ناکافی فنڈنگ کے سبب مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی موثر نگرانی سے قاصر ہے،مقررین

جنیوا۔12ستمبر (اے پی پی):ورلڈ مسلم کانگریس کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیمینار میں ماہرین اور سفارت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کے لیے مسلسل ناکافی فنڈنگ مقبوضہ علاقوں اور تنازعات سے متاثرہ خطوں میں انسانی آبادیوں کے تحفظ کی عالمی برادری کی صلاحیت کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابقاقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قانونی ماہرین اور سابق سفارت کاروں، جن میں آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سفیر سردار مسعود خان، اقوام متحدہ کے سابق آزاد ماہر الفریڈ ڈی زایاس، سابق وفاقی وزیر قانون و انصاف احمد بلال صوفی، ڈاکٹر بلیریم مصطفیٰ، پروفیسر اوکٹاویا چرچیز، ڈاکٹر نملکا فرنانڈو اور ورلڈ مسلم کانگریس کے مستقل نمائندے الطاف حسین وانی شامل تھے، نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی محض انتظامی رکاوٹ نہیں بلکہ ان نظاموں کو بھی کمزور کر رہی ہے جو جابرانہ حکومتوں کو جواب دہ بنانے کے لیے ضروری ہیں۔مقررین نے انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر کو درپیش وسائل کی کمی اور مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی بے لگام خلاف ورزیوں کے درمیان خطرناک تعلق کو اجاگر کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ پائیدار اور مضبوط فنڈنگ کے بغیر اقوام متحدہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی مو ثر نگرانی نہیں کر سکتا۔سیمینار میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورتحال پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ مقررین نے کشمیر میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیموں کو خاموش کرانے کی منظم کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو طویل عرصے سے ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویز بندی میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔مقررین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مضبوط اور مناسب فنڈنگ سے محروم احتسابی نظام نے انسانی حقوق کے محافظوں کے خلاف کریک ڈاو ¿ن اور اختلافِ رائے کو دبانے کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے بھارت کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جواب دہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں انصاف کی فراہمی اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

مقررین نے اپنی تشویش کو دیگر تنازعات سے متاثرہ خطوں تک بھی وسعت دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی مالی استعداد میں کمی سے سب سے زیادہ کمزور اور غیر محفوظ آبادیوں، بالخصوص فلسطین جیسے مقبوضہ علاقوں اور دیگر تنازع زدہ خطوں کے عوام، ایک مو ¿ثر حفاظتی حصار سے محروم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب معاہداتی اداروں اور خصوصی طریقہ کار کے لیے مناسب وسائل دستیاب نہ ہوں تو ”مظالم کی دستاویز بندی“ بھی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ذمہ دار عناصر کو بلاخوف و خطر کارروائیاں جاری رکھنے کا موقع ملتا ہے۔

سیمینار کے شرکاءنے قرار دیا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کے لیے مسلسل ناکافی فنڈنگ ایک تزویراتی ناکامی ہے۔ انہوں نے منصفانہ، پائیدار اور مناسب فنڈنگ کی جانب فوری پیش رفت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اقوام متحدہ کو درج ذیل امور مو ¿ثر انداز میں انجام دینے کے قابل بنایا جا سکتا ہے:مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مو ¿ثر نگرانی؛ انسانی حقوق کے محافظوں کو ریاستی انتقامی کارروائیوں سے تحفظ؛اور تمام قابض طاقتوں پر بین الاقوامی قانون کا یکساں اور بلاامتیاز اطلاق۔مقررین نے خبردار کیا کہ مسلسل ناکافی فنڈنگ محض ایک انتظامی ادارے کو کمزور نہیں کرتی بلکہ ان بنیادی نظاموں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے جو احتساب، بین الاقوامی قانون کے احترام اور مظلوموں کے لیے انصاف تک رسائی یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔