اقوام متحدہ ۔4دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیل سے مشرق وسطیٰ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے دستبردار ہونے کے مطالبے کا اعادہ اور مسئلے کے دو ریاستی حل کے امکانات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جون 2025 میں نیو یارک میں بین الاقوامی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی میزبانی سعودی عرب اور فرانس مشترکہ طورپر کریں گے۔ جرمن نشریاتی ادارے …
اقوام متحدہ کا مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے امکانات پر تبادلہ خیال کے لیے جون 2025 میں بین الاقوامی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔4دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیل سے مشرق وسطیٰ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے دستبردار ہونے کے مطالبے کا اعادہ اور مسئلے کے دو ریاستی حل کے امکانات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جون 2025 میں نیو یارک میں بین الاقوامی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی میزبانی سعودی عرب اور فرانس مشترکہ طورپر کریں گے۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنرل اسمبلی میں 8 کے مقابلے میں157 ووٹوں سے منظور ہونے والی قرارداد میں بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کےمسئلے کے دو ریاستی حل کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا گیا ۔
اس قرار داد پر ووٹنگ میں امریکا اور اسرائیل نے حصہ نہیں لیا جبکہ7ممالک غیر حاضر رہے۔ جنرل اسمبلی کی طرف سے منظور کی جانے والی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ دونوں ریاستوں کو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر امن اور سلامتی کے ساتھ رہنا چاہیے ۔فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اس امید کا اظہار کیا کہ سربراہی اجلاس اسرائیل کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھے گا اور یہ واضح کرے گا کہ دو ریاستی حل تمام فریقین کے لیےقابل عمل ہے۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے اس موقعے پر کہا کہ فلسطین کا سوال آغاز سے ہی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر رہا ہے اور یہ اس کی ساکھ اور اختیار اور بین الاقوامی قانون پر مبنی آرڈر کے وجود کا سب سے اہم امتحان ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد کے ذریعے ہی 1947 میں فلسطین کو عرب اور یہودی دو ریاستوں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔








