اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت

اقوام متحدہ۔4فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والے حالیہ مہلک دہشت گرد حملوں کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ان حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر سے جاری پریس بیان میں 15 رکنی سلامتی کونسل نے کہا کہ اس قابلِ نفرت دہشت گرد کارروائیوں …

اقوام متحدہ۔4فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والے حالیہ مہلک دہشت گرد حملوں کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ان حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر سے جاری پریس بیان میں 15 رکنی سلامتی کونسل نے کہا کہ اس قابلِ نفرت دہشت گرد کارروائیوں کے نتیجے میں 48 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جن میں 31 عام شہری شامل تھے ، جن میں5خواتین اور 3 بچے بھی شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ان دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔

بیان میں ان حملوں کو’’گھناؤنا اور بزدلانہ‘‘ قرار دیا گیا۔پاکستان کے خلاف بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں پر سلامتی کونسل کا یہ بیان برطانیہ کے ناظم الامور جیمز کریوکی، جو اس وقت سلامتی کونسل کے صدر ہیں، کی جانب سے جاری کیا گیا۔ بیان میں کہا گیاکہ سلامتی کونسل کے ارکان نے متاثرین کے خاندانوں، حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ بیان میں اس امر کی توثیق کی گئی کہ دہشت گردی اپنی تمام اقسام اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔

بیان میں کہا گیاکہ سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ ان قابلِ مذمت دہشت گردکارروائیوں کا ارتکاب کرنے والوں ، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے اس امر کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی، اس کے محرکات کچھ بھی ہوں، جہاں بھی، جب بھی اور جس کی جانب سے بھی کی جائے، وہ مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ تمام ریاستیں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی دیگر ذمہ داریوں، بشمول بین الاقوامی انسانی حقوق، مہاجرین کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق دہشت گردی کے باعث بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کےلئے ہر ممکن اقدامات کریں۔

مزید خبریں