اقوام متحدہ ۔21نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریش نےدنیا بھر کے ممالک پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی بحران کی سنگینی سے نمٹنے کے لیے فوری، منصفانہ اور متوازن معاہدے تک پہنچیں۔شنہوا کے مطابق انہوں نے یہ اپیل برازیل کے امازون شہر بیلیم میں جاری 30ویں اقوامِ متحدہ کلائمیٹ چینج کانفرنس (کوپ 30) کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب میں کی۔ کانفرنس 10 سے 21 نومبر …
اقوام متحدہ کی ہنگامی ماحولیاتی اقدام اور منصفانہ کوپ 36معاہدے کی اپیل

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔21نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریش نےدنیا بھر کے ممالک پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی بحران کی سنگینی سے نمٹنے کے لیے فوری، منصفانہ اور متوازن معاہدے تک پہنچیں۔شنہوا کے مطابق انہوں نے یہ اپیل برازیل کے امازون شہر بیلیم میں جاری 30ویں اقوامِ متحدہ کلائمیٹ چینج کانفرنس (کوپ 30) کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب میں کی۔ کانفرنس 10 سے 21 نومبر تک جاری ہے اور مذاکرات اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
انتو نیو گوتریش نے کہا کہ کمزور اور متاثرہ برادریاں مزید انتظار کی متحمل نہیں ہو سکتیں اور تمام وفود کو اتفاقِ رائے تک پہنچنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2015 کے پیرس معاہدے کے بعد ایک دہائی میں ہونے والی پیش رفت ناکافی ہے۔ "ہمیں کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا اور اخراجات میں بڑی کمی لانا ہوگی۔انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اب ہی اخراج کے عروج پر پہنچنا چاہیے، اس دہائی میں اخراج کو نصف کرنا ہوگا، 2050 تک نیٹ زیرو کا ہدف حاصل کرنا ہوگا اور اس کے بعد نیٹ نیگیٹو کی طرف بڑھنا ہوگا۔
گوتیریس نے فوسل فیولز سے منصفانہ، منظم اور مساویانہ منتقلی کی ضرورت کو بھی دہرایا، جیسا کہ گزشتہ سال دبئی میں کوپ 28 پایا تھا۔یو این چیف کے مطابق ماحولیاتی نظام کا تحفظ اور مناسب مالی معاونت ہدف کے حصول کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2030 تک جنگلات کی کٹائی کو روکنا اور الٹ دینا ضروری ہے تاکہ فطرت نقصان کے بجائے تحفظ کا ذریعہ بن سکے۔
انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ آب و ہوا کے اقدامات کے لیے سالانہ کم از کم 300 ارب امریکی ڈالر 2035 تک فراہم کریں، جبکہ اس وقت تک سالانہ 1.3 کھرب ڈالر کے ہدف تک پہنچنے کا واضح روڈمیپ بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق محدود قومی بجٹ کے باوجود عالمی مالیاتی نظام وسائل کو بڑھا کر زیادہ اثر انگیزی پیدا کر سکتا ہے، اور کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں کو فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔








