اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تدارکِ صحرا زدگی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ابراہیم تھیاو کی بلین ٹری سونامی کی تعریف

اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تدارکِ صحرا زدگی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ابراہیم تھیاو¿ نے کابوچی ڈیزرٹ فورم کے موقع پر وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم اور خیبر پختونخواہ کے بلین ٹری سونامی کی تعریف کی ہے ۔ بلین ٹری سونامی کو شاندار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں بہترین کام عالمی سطح …

اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تدارکِ صحرا زدگی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ابراہیم تھیاو¿ نے کابوچی ڈیزرٹ فورم کے موقع پر وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم اور خیبر پختونخواہ کے بلین ٹری سونامی کی تعریف کی ہے ۔ بلین ٹری سونامی کو شاندار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں بہترین کام عالمی سطح پر صحرا زدگی، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے ضیاع کی روک تھام بہترین سرمایہ کاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کی ترویج، روزگار کے مواقع اور قابل تجدید توانائی کا حصول ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں زمین کی بحالی کلیدی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ بنی نوع انسان کی98 فیصد خوراک زمینی ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔۔ بعد ازاں انہوں نے ایک ٹویٹ میں ملک امین اسلم کی پریزنٹیشن کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ تدارکِ صحراء زدگی کے منصوبے میں شراکت داری کیلئے پر امید ہیں۔ملک امین اسلم نے گذشتہ دنوں چین میں کابوچی ڈیزرٹ فورم میں شرکت کی۔اس فورم کا مقصد اقوام عالم کو چین کی طرف سے صحرائے کابوچی کو ہرا بھرا کرنے کی کاوشوں سے روشناس کرانا تھا۔ حکومت چین نے شمال مغربی صوبے اندورنِ منگولیا میں واقع صحرائے کابوچی کو نخلستان میں بدلنے کا منصوبہ 1988 میں شروع کیا تھا۔ اس منصوبے کی بدولت ایک تہائی صحراء جو چھے ہزار مربع کلومیٹر سے زائد ہے کو سرسبز کیا جا چکا ہے۔ ابراہیم تھیاو¿ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تدارکِ صحرا زدگی کے ایگزیکٹو سیکرٹری ہیں۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے تدارک صحرا زدگی عالمی سطح پر قحط سالی کے اثرات کے خاتمے کیلئے قومی ایکشن پروگرام مرتب کرتا ہے جس بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے دور رس نتائج کے حصول کیلئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔