حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) نے بجلی کی تقسیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے منصوبے (ای ڈی ای آئی پی) کے تحت اپنے حیدرآباد اور لاڑ سرکلز میں 30 ہزار ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) میٹرز نصب کرنے کا منصوبہ بنایا ہے
حیسکو کا 30 ہزار اے ایم آئی میٹرز نصب کرنے کا منصوبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) نے بجلی کی تقسیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے منصوبے (ای ڈی ای آئی پی) کے تحت اپنے حیدرآباد اور لاڑ سرکلز میں 30 ہزار ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) میٹرز نصب کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق 30 ہزار میٹرز کے لیے اے ایم آئی میٹرنگ سسٹم کی مکمل سہولت کی تجویز دی گئی ہے، جس کی تخمینی لاگت 476.8 ملین روپے یعنی 2.98 ملین ڈالر ہے۔منصوبے میں حیسکو کے گرڈ سٹیشنز اور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر کام بھی شامل ہے۔مجوزہ دائرہ کار کے تحت ریور بند پر 2×40 ایم وی اے صلاحیت کے 132 کلو وولٹ جی آئی ایس گرڈ سٹیشن کی تخمینی لاگت 1.138 ارب روپے یعنی 7.11 ملین ڈالر ہے۔ اسی صلاحیت کے 132 کلو وولٹ اے آئی ایس گرڈ سٹیشن کی راشد آباد میں تعمیر پر 872 ملین روپے یعنی 5.45 ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔منصوبے میں کھپرو گرڈ سٹیشن کو اس کی فیڈنگ ٹرانسمیشن لائن سمیت 66 کلو وولٹ سے 132 کلو وولٹ میں تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔ 1×20/26 ایم وی اے کے اس جزو کی تخمینی لاگت 1.802 ارب روپے یعنی 11.26 ملین ڈالر ہے۔ٹنڈو آدم میں 1×40 ایم وی اے کا ایک اضافی پاور ٹرانسفارمر نصب کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی تخمینی لاگت 264 ملین روپے یعنی 1.65 ملین ڈالر ہے، جبکہ ہالا-T2 میں اسی 1×40 ایم وی اے صلاحیت کے پاور ٹرانسفارمر کی استعداد بڑھانے پر 222.4 ملین روپے یعنی 1.39 ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے۔منصوبے کے ایک اور جزو کے تحت جامشورو-قاسم آباد-ہالا روڈ اور جامشورو-راجپوتانہ-ہالا روڈ سیکشنز پر کاسابلانکا اے سی سی سی کنڈکٹر استعمال کرتے ہوئے ہائی ٹمپریچر لو سیگ (ایچ ٹی ایل ایس) ٹیکنالوجی کے ذریعے 28 کلومیٹر لائن کی ری کنڈکٹرنگ کی جائے گی۔ اس کام کی تخمینی لاگت 424 ملین روپے یعنی 2.65 ملین ڈالر ہے۔منصوبے میں سامان اور آلات کی فراہمی کے ذریعے آپریشن اور دیکھ بھال کو بہتر بنانے کے لیے 1.693 ارب روپے یعنی 10.58 ملین ڈالر بھی مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں پاور ٹرانسفارمرز، سرکٹ بریکرز، سی ٹی/پی ٹی آلات، لائٹننگ اریسٹرز، 11 کلو وولٹ سوئچ گیئر، 132 کلو وولٹ ٹرانسمیشن لائن کا سامان، ٹیسٹنگ سیٹس، کرینیں، کرین سے لیس لوڈرز، لفٹرز اور گاڑیاں شامل ہیں۔80 گرڈ سٹیشنز کا احاطہ کرنے والا اسکاڈ سسٹم بھی تجویز کیا گیا ہے، تاہم اس کا انحصار فزیبلٹی اسٹڈی کی تکمیل اور ضروری منظوریوں پر ہوگا۔ دستاویز میں اس جزو کی تخمینی لاگت نہیں بتائی گئی۔مطالعات، جائزوں اور مینوئلز کی تیاری یا انہیں اپ ڈیٹ کرنے سمیت تکنیکی معاونت اور تربیت کے لیے 104 ملین روپے یعنی 0.65 ملین ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پراجیکٹ امپلی مینٹیشن اینڈ مینجمنٹ سپورٹ کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرکے منصوبے پر عمل درآمد میں معاونت کے لیے 419.2 ملین روپے یعنی 2.62 ملین ڈالر رکھے گئے ہیں۔منصوبے کے اجزا کی مجموعی تخمینی لاگت 7.414 ارب روپے یعنی 46.35 ملین ڈالر ہے، جبکہ انتظامی اور دیگر اخراجات 371.2 ملین روپے یعنی 2.32 ملین ڈالر ہیں۔ دستاویز کے مطابق مالیاتی ڈھانچے اور فنانسنگ اخراجات کو شامل کرنے سے قبل مجموعی رقم 7.787 ارب روپے یعنی 48.67 ملین ڈالر بنتی ہے۔زمین کے اخراجات سمیت حیسکو کا اپنا حصہ 785.6 ملین روپے یعنی 4.91 ملین ڈالر ہے۔ باقی رقم 7.002 ارب روپے یعنی 43.76 ملین ڈالر ہے، جبکہ فنانسنگ اخراجات، جن میں فرنٹ اینڈ فیس، تعمیراتی مدت کے دوران سود اور کمٹمنٹ فیس شامل ہیں، 316.8 ملین روپے یعنی 1.98 ملین ڈالر بنتے ہیں۔فنانسنگ اخراجات سمیت آئی بی آر ڈی قرضے کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 7.318 ارب روپے یعنی 45.74 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ حیسکو کے اپنے فنڈز اور آئی بی آر ڈی قرضے پر مشتمل منصوبے کی مجموعی لاگت 8.104 ارب روپے یعنی 50.65 ملین ڈالر بنتی ہے۔







