نیویارک ۔ 11ستمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے کہاہے کہ بدعنوانی دنیا کے تمام ممالک میں موجود ہے اوراس کے تدارک کیلئے کوششوں کو موثر اورمضبوط بنانے کی ضرورت ہے، بہت سی جگہوں پرعدم استحکام اورتشدد کا بدعنوانی سے تعلق ثابت ہوا ہے، سلامتی کونسل اورجنرل اسمبلی نے کئی مواقع پر بدعنوانی، دہشت گردی اورپرتشدد انتہا پسندی کے مابین تعلق کوثابت کردکھایا ہے۔انہوں نے …
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش کا سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب
نیویارک ۔ 11ستمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے کہاہے کہ بدعنوانی دنیا کے تمام ممالک میں موجود ہے اوراس کے تدارک کیلئے کوششوں کو موثر اورمضبوط بنانے کی ضرورت ہے، بہت سی جگہوں پرعدم استحکام اورتشدد کا بدعنوانی سے تعلق ثابت ہوا ہے، سلامتی کونسل اورجنرل اسمبلی نے کئی مواقع پر بدعنوانی، دہشت گردی اورپرتشدد انتہا پسندی کے مابین تعلق کوثابت کردکھایا ہے۔انہوں نے یہ بات انہوں نے بدعنوانی کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔خصوصی اجلاس میں بین الاقوامی امن اورسلامتی کویقینی بنانے کیلئے انسداد بدعنوانی کے موضوع کا احاطہ کیا گیا۔اجلاس میں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیوای ایف) کے اعداد و شمارکے حوالے سے بتایا گیاکہ سالانہ 26 کھرب ڈالر بدعنوانی کی نذر ہوجاتے ہیںجو دنیا کے مجموعی جی ڈی پی کا 5 فیصد ہے۔اسی طرح عالمی بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف تجارتی ادارے اورشخصیات سالانہ دس کھرب ڈالر سے زیادہ رقم بطوررشوت دیتے ہیں۔سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ بدعنوانی سکولوں، ہسپتالوں اوردیگر انتہائی اہمیت کے حامل فنڈز پر ڈاکہ ڈالتی ہے، یہ اداروں کی تباہی کا باعث ہے کیونکہ ملوث حکام تمام ضابطوں کونظراندازکرتے ہوئے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں ، اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جاتا ہے جبکہ بیرونی سرمایہ کاری بھی متاثرہوتی ہے۔









