اقوام متحدہ کے ماہر نے امریکا میں قید بچوں بارے غلط اعدادوشمار بتانے پر معذرت کرلی

اقوام متحدہ ۔ 21 نومبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے رواں ہفتے جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران امریکا میں قید بچوں کی غلط تعداد بتانے پر معذرت کر لی، امریکی کے مطابق اقوام متحدہ کے پروگرام عالمی مطالعہ برائے آزادی سے محروم بچوں کے سربراہ منفریڈ نواک نے رواں ہفتے جنیوا میں اپنی رپورٹ کی پریزنٹیشن کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا …

اقوام متحدہ ۔ 21 نومبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے رواں ہفتے جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران امریکا میں قید بچوں کی غلط تعداد بتانے پر معذرت کر لی، امریکی کے مطابق اقوام متحدہ کے پروگرام عالمی مطالعہ برائے آزادی سے محروم بچوں کے سربراہ منفریڈ نواک نے رواں ہفتے جنیوا میں اپنی رپورٹ کی پریزنٹیشن کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حراستی مراکز میں موجود بچوں کی سب سے زیادہ تعداد امریکہ میں قید ہے،نواک کی پریس کانفرنس کے اگلے روز ہیاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ نواک کا تبصرہ کسی حد تک غلط فہمی پر مبنی تھا۔ منفریڈ نواک دراصل براک اوباما کی صدارت کے دوران ، اقوام متحدہ کی مہاجر ایجنسی کے 2015 ء کے لئے مرتب کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دے رہے تھے۔یہ تعداد اس سال کے دوران کسی بھی موقع پر حراست میں رکھے جانے والے تارکین وطن بچوں کی ایک مجموعی تعداد تھی نہ کہ ایک وقت میں رکھے گئے بچوں کی۔ منفریڈ نواک نے اعتراف کیا کہ مجھے یہ واضح کرنا چاہئے تھا کہ یہ اعداد و شمار تین سال پہلے کے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ اس غلط فہمی پر معافی مانگتے ہیں۔ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔