الجزائر ،سال کے آخر کی ایک خاص مٹھائی کی فروخت پر پابندی کے فیصلے پر تنازع کے بعد فیصلہ واپس لے لیا گیا

الجزیرہ۔2جنوری (اے پی پی):شمالی افریقی ملک الجزائر کے صوبے سیدی بلعباس کی بلدیہ تلاغ کے سربراہ کی جانب سے سال کے آخر کی ایک خاص مٹھائی کی فروخت پر پابندی کا متنازعہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ العربیہ اردو کے مطابق مغربی الجزائر کے صوبے سیدی بلعباس کی بلدیہ تلاغ کے سربراہ کی جانب سے جاری کردہ انتظامی فیصلے نے سوشل میڈیا پر وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فیصلے …

الجزیرہ۔2جنوری (اے پی پی):شمالی افریقی ملک الجزائر کے صوبے سیدی بلعباس کی بلدیہ تلاغ کے سربراہ کی جانب سے سال کے آخر کی ایک خاص مٹھائی کی فروخت پر پابندی کا متنازعہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ العربیہ اردو کے مطابق مغربی الجزائر کے صوبے سیدی بلعباس کی بلدیہ تلاغ کے سربراہ کی جانب سے جاری کردہ انتظامی فیصلے نے سوشل میڈیا پر وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فیصلے میں سال کے آخر کی ایک خاص مٹھائی کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے مقرر کیے گئے تھے۔ بہت سے لوگوں نے اسے ذاتی اور مذہبی آزادیوں میں مداخلت قرار دیا جس کے بعد مقامی عہدیدار نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا اور اسے جاری ہونے کے چند دن بعد منسوخ کر دیا۔

فیصلے کے متن کے مطابق تجارتی دکانوں اور مٹھائی کے مراکز میں کرسچن ٹری ٹرنک کیک کی فروخت پر مکمل پابندی لگائی گئی تھی۔ فیصلے کی دوسری شق میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں دکان کو 30 دن کے لئے بند کر دیا جائے گا اور 20 ہزار الجزائری دینار (تقریباً 85 ڈالر) جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ بلدیہ کے سربراہ نے ڈسٹرکٹ سکیورٹی چیف، نیشنل جینڈرمیری کے دستے کے سربراہ ٹریڈ انسپکٹریٹ کے سربراہ اور بلدیاتی صحت و صفائی کے ادارے کو اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔تاہم اس فیصلےپر سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیاجہاں مخالفین نے اسے ذاتی آزادیوں اور مذہبی عقائد پر حملہ قرار دیا اور مذہبی تقریبات کے معاملات میں مداخلت کرنے کے حوالے سے بلدیہ کے سربراہ کے اختیارات پر سوال اٹھائے۔

دوسری جانب کچھ تبصرہ نگاروں نے بلدیہ کے سربراہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقے کے قدامت پسند مزاج کا احترام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس شدید تنازع کے پیش نظر بلدیہ تلاغ کے سربراہ نے یکم جنوری 2026 کی شام کو ایک نیا فیصلہ جاری کیا جس کے تحت مٹھائی کی فروخت پر پابندی کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا۔ اس تناظر میں سماجی ماہر عبد الحفیظ صندوقی نے کہا کہ الجزائر میں مذاہب اور عقائد کا احترام قانون کی طاقت سے محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ، چاہے جان بوجھ کر ہو یا غیر ارادی طور پر، ایک ایسی سماجی بحث اور اختلاف پیدا کر کے ایسے منفی اثرات چھوڑ گیا جن کی ہمیں ضرورت نہیں تھی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئے سال کی تقریب منانا یا نہ منانا ایک ذاتی انتخاب ہے جس سے دوسرے متاثر نہیں ہوتے۔ الجزائری معاشرہ افراد کی آزادی اور دوسروں کی آزادی کے احترام کے درمیان توازن کا عادی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے ساتھ وابستہ تنازع اور پھر اس کی منسوخی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ نئے سال کے جشن کو بہت سے لوگ مذہبی سے زیادہ ایک عالمی جشن کے طور پر دیکھتے ہیں اور ایسے فیصلوں سے گریز کرنا معاشرے کو ایک وسیع بحث سے بچا سکتا تھا۔

مزید خبریں