الیکشن کمیشن پاکستان نے بنگلہ دیش میں عام انتخابات پر اپنی 38 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

الیکشن کمیشن پاکستان نے بنگلہ دیش میں عام انتخابات پر اپنی 38 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):الیکشن کمیشن پاکستان نے بنگلہ دیش میں عام انتخابات پر اپنی 38 صفحات پر مرتب رپورٹ کا اجراء کرتے ہوئے مجموعی طور پر انتخابی عمل کو صاف،شفاف اور پرامن قراردیتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ ووٹ کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے پولنگ سٹیشنز کے اندر ووٹروں پر موبائل فون لے جانے پر پابندی ہونی چاہئے،تارکین وطن کے لئے پوسٹل بیلٹ کی رازداری اور تقدس کو یقینی بنانے کے لئے اس عمل پر وقتاً فوقتاً نظرثانی کی جانی چاہئے،خصوصی افراد اور ضعیف ووٹرز کی سہولت کے لئے پولنگ سٹیشنز گرائونڈ یا فرسٹ فلور پر ہونے چاہئیں، امیدوار سے ووٹ تک خواتین کی انتخابی عمل میں شرکت بڑھائی جائے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ای سی پی کے تین رکنی وفد نے 10 سے 14 فروری کے دوران بنگلہ دیش میں جولائی 2024 کے چارٹر کے تحت ہونے والے انتخابات کا جائزہ لینے کے لئے دورہ کیا جہاں پولنگ 12 فروری کو ہوئی۔ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کی جانب سے دنیا بھر سے آئے ہوئے مبصرین کو جامع بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے وفد میں ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی وپالیسی اینڈ پلاننگ،ڈائریکٹر جنرل جی ایس آئی اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل لا شامل تھےجنہیں انتخابی عمل بالخصوص انتخابی و انفارمیشن ٹیکنالوجی ،صنفی و سماجی شمولیت اور انتخابی قوانین میں خصوصی مہارت حاصل تھی۔دورے کا مقصد انتخابی عمل کا غیر جانبدارانہ مشاہدہ کرنا تھا۔دورے کے موقع پر وفد نے پاکستانی ہائی کمشنر اے ملاقات بھی کی جہاں سفارتخانہ کی جانب سے انہیں جامع بریفنگ دی گئی۔انہوں نے سفارتی پروٹوکول،میزبان ملک کے قواعد اور رابطوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔اسی اجلاس میں پولنگ ڈے کے حوالے سے سرگرمیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔پولنگ ڈے سے پہلے بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر ملکی مبصرین کے لئے انتخابی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ کا اہتمام کیاگیاجس میں وفد نے شرکت کی۔

اس بریفنگ میں الیکشن کمیشن بنگلہ دیش کے انتخابی نظام،اس کے مینڈیٹ کے حوالے سے آگاہ کیاگیا۔اس موقع پر ملک سے باہر حق رائے دہی کے استعمال کے حوالے سے بھی آگاہ کیاگیا۔ریفرنڈم 2026 کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔بنگلہ دیش کے ان انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ تھی۔انتخابات میں 50 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔8 لاکھ پولنگ عملہ تعینات ہوا۔یہ مجموعی طور پر 13 ویں عام انتخابات تھے،جس میں 273 آزاد امیدواروں سمیت 2028 امیدواروں نے حصہ لیا۔15 لاکھ 30 ہزار پوسٹل بیلٹ استعمال کئے گئے۔پولنگ کا آغاز صبح ساڑھے 7 بجے سے ساڑھے 4 بجے تک جاری رہا۔ٹرن آئوٹ 60 فیصد رہاجبکہ ریفرنڈم میں 68 فیصد نے ہاں اور 32 فیصد میں ناں کی۔

کل 42 ہزار 550 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے۔کل 300 میں سے 299 نشستوں پر پولنگ ہوئی ایک نشست پر امیدوار کی وفات کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوئی۔ 83 خواتین امیدواروں نے بھی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولنگ سٹیشنز کے باہر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹروں کی سہولت کے لئے کیمپ قائم کئے گئے تھے،ووٹر پولنگ اسٹیشن کے باہر نظم و ضبط سے لائنوں میں لگ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے تھے۔پولنگ سٹیشن کے داخلی راستوں پر ووٹروں کی معاونت کے لئے بنگلہ زبان میں بینر اور سٹینڈز لگائے گئے تھے۔

بلیو جیکٹس میں ملبوس رضا کار طالب علم ووٹروں کی رہنمائی کرتے رہے۔ پریذائیڈنگ آفیسر الگ روم میں براجمان تھے۔کچھ پولنگ سٹیشنز پر نیٹ ورک ویڈیو ریکارڈر،ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی سکرین سے مزین تھے۔غیر ملکی مبصرین کو خصوصی ایکریڈیشن کارڈ جاری کئے گئے۔جن ووٹرز نے بیرون ملک سے اپنے ووٹ پول کئے تھے ان کے ووٹر پر وائیٹ واٹر مارک لگایا گیا تھا۔ووٹرز کے لئے شناختی کارڈ دکھانا لازمی تھا،خواتین اور مردوں کے لئے الگ الگ پولنگ بوتھ قائم کئے گئے تھے۔فیمیل سٹاف کی قلت کی وجہ سے خواتین کے کچھ پولنگ سٹیشنز پر مرد عملہ اور پولنگ ایجنٹ تعینات کئے گئے جو کسی حد تک فیمیل ووٹرز کی پرائیویسی پر سمجھوتہ تھا۔

انتخابی فہرستوں میں جنریشن زی کے طور پر 45 لاکھ نئے ووٹ رجسٹرڈ ہوئے۔2 لاکھ 50 ہزار ووٹروں کے حلقہ میں 25 لاکھ بنگالی خرچ کئے جاسکتے تھے۔10 ہزار صحافیوں اور 4 سو غیرملکی اور 44 ہزار مقامی مبصرین نے کوریج کی۔اس دن میلہ کا سماں تھا۔ حلقہ جاتی سطح پر نتائج مرتب کرنے کے لئے الیکشن مینجمنٹ سسٹم سافٹ وئیر استعمال کیاگیا۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے باہر مرکزی نتائج کے اعلان کے لئے الیکشن سٹی بنایا گیا تھا۔پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر کسی قسم کی کوئی مداخلت رپورٹ نہیں ہوئی۔پولنگ مجموعی طور پر پرامن اور منظم انداز میں ہوئی۔نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنل پارٹی نے 209 نشستیں حاصل کیں،جماعت اسلامی نے 68 نشستیں حاصل کیں۔

رپورٹ کے مطابق سٹاف نے اپنی ذمہ داریاں انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دیں۔بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کو پی آئی ڈی اور آئی سی ٹی ڈویژن نے مکمل معاونت فراہم کی۔ جنریشن زی نے انتخابی سرگرمیوں میں سرگرم حصہ لیا۔خصوصی افراد،ضعیف اور بزرگ ووٹروں کو مطلوبہ سہولیات بہم پنچائی گئیں۔ہائی برڈ پوسٹل بیلٹ کے ذریعے اوورسیز ووٹروں کو حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع دیا گیا۔سیکیورٹی کے انتظامات بڑھانے کے لئے سی سی ٹی سی کیمرے لگائے گئے۔ریفرنڈم کے لئے آسان اور سادا بیلٹ پیپر ڈیزائن کیاگیا تھا۔خواتین ووٹر ٹرن آئوٹ کی حوصلہ افزائی کی گئی۔اس کے ساتھ اطلاعات کی درستگی کا چیلنج بھی درپیش رہا۔

میڈیا کے لئے اچھے انتظامات کئے گئے تھے۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے استعمال کی روک تھام ہونی چاہئے۔اے آئی سے لیاگیا مواد روکنے پھیلنے سے روکنے کے لئے موثر قوانین کی ضرورت ہے،مقامی سطح پر لیزان آفسز کے قیام کی ضرورت ہے۔ووٹرز انفارمیشن سسٹم کو "سکیورٹی بائی ڈیزائن اپروچ” کے تحت ڈیزائن کیاجائے۔ایس ایم ایس کے ذریعے ووٹر تفصیلات کی فراہمی کو متبادل آپشن کے طور پر لازمی رکھا جائے۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ شفافیت اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانے کے لئے نتائج کی سکین کاپیاں اپنی ویب سائیٹ پر جاری کرے۔پوسٹل بیلٹ کی شفافیت کے لئے اس کے انتظامات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہئے۔ضعیف اور خصوصی ووٹرز کی سہولت کے لئے پولنگ اسٹیشن گرائونڈ فلور یا پہلی منزل پر جبکہ ان کی تعداد بڑھائے جانے کی ضرورت ہے۔

ووٹ کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے پولنگ سٹیشنوں کے اندر موبائل کے استعمال پر پابندی کی ضرورت ہے۔انتخابی عمل کے ہر شعبہ میں خواتین کی شرکت کو فروغ دیا جانا چاہیے۔رپورٹ میں کیاگیا ہے کہ وفد نے انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ ملاقات کی اور ان سے اپنے تجربات کا تبادلہ کیا اور مستقبل میں باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیاگیا۔رپورٹ کے اختتام پر کہاگیا ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف اور پرامن رہا،ووٹروں کو رہنمائی کا عمل قابل تعریف اور پولنگ اسٹیشن پر نظم وضبط دیکھنے میں آیا۔سکیورٹی کے مربوط انتظامات کی وجہ سے بغیر کسی مداخلت کے ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

مزید خبریں