الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بیان پر سخت نوٹس، این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخاب میں فول پروف سکیورٹی کے احکامات

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حویلیاں جلسے میں دیئے گئے مبینہ دھمکی آمیز بیان پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں اور امیدوار مسماۃ شہرناز عمر ایوب کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جمعہ 21 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کے دوران ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انتخابی عملے کو دھمکیاں دیں جبکہ …

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حویلیاں جلسے میں دیئے گئے مبینہ دھمکی آمیز بیان پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں اور امیدوار مسماۃ شہرناز عمر ایوب کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جمعہ 21 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کے دوران ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انتخابی عملے کو دھمکیاں دیں جبکہ جلسے کے سٹیج پر ایک مفرور مجرم کی موجودگی بھی نوٹ کی گئی جس کی اہلیہ حلقے سے انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث این اے 18 ہری پور کے پرامن ضمنی انتخاب کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا ہے اور انتخابی عملے، اہلکاروں اور ووٹروں کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر خیبر پختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر چیف سیکرٹری اور آئی جی سے ملاقات کرکے ضروری حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں رپورٹ کمیشن کو پیش کریں۔

کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ وزارت داخلہ کے سیکرٹری کو خط ارسال کرکے حلقے میں وفاقی سکیورٹی اداروں کی مدد سے فول پروف سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی درخواست کی جائے تاکہ ریٹرننگ افسران، پولنگ سٹاف، ووٹرز اور عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں پریذائیڈنگ افسران کی پولنگ سٹیشنز کو روانگی اور انتخاب کے بعد آر او دفتر واپسی تک ان کی اور انتخابی مواد کی سکیورٹی کا بھی خصوصی انتظام کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ اگر ضمنی انتخاب کے دوران کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والا شخص یا فرد انتخابی عمل میں مداخلت یا خلل ڈالنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو بھی اسی نوعیت کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی سرکاری عہدیدار کے خلاف فوری اور سخت قانونی ایکشن لیا جائے۔