اقوام متحدہ اور اس کے انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے سوڈان میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کے باوجود ہیضہ سے نمٹنے کے لیے اقدامات اور ضرورت مند افراد کو اہم امداد کی فراہمی جاری رکھی ہوئی ہے۔
سوڈان میں سکیورٹی خدشات کے باوجود اقوام متحدہ کی جانب سے ہیضہ سے نمٹنے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔10ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ اور اس کے انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے سوڈان میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کے باوجود ہیضہ سے نمٹنے کے لیے اقدامات اور ضرورت مند افراد کو اہم امداد کی فراہمی جاری رکھی ہوئی ہے۔
شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے شمالی دارفور ریاست کے تاویلا میں حکام نے منگل کو 10 روزہ ہیضہ ویکسینیشن مہم شروع کردی ہے، جس کا مقصد 95 ہزار بے گھر افراد کو بیماری سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق سوڈان میں جون میں ہیضے کی وبا کے اعلان کے بعد اب تک 6 ریاستوں میں تقریباً 2,900 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ اس بیماری کے باعث 247 اموات ہوئی ہیں۔
اوچا نے اپنی روزانہ کی صورتحال رپورٹ میں بتایا کہ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) اور اس کے شراکت داروں نے حال ہی میں تاویلا، ال لیت اور ام حجلیج کے علاقوں میں 12 ہزار افراد کو ہنگامی پناہ گاہیں اور ضروری گھریلو سامان فراہم کیا ہے۔آئی او ایم کے مطابق شمالی دارفور میں گزشتہ ہفتے ام بارو کے علاقے کے دیہات میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے باعث تقریباً 1,300 افراد نقل مکانی کرکے ریاست کے دیگر علاقوں اور سرحد پار چاڈ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی دارفور کی ریاست میں منگل کو نیالا شہر کے مختلف مقامات پر تین ڈرون حملے بھی رپورٹ ہوئے، جبکہ بلیو نائل ریاست میں پیر کو بڑھتی ہوئی بدامنی کے باعث گیسان کے علاقے کے متعدد دیہات سے 3,300 سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔ یہ علاقہ سوڈان اور ایتھوپیا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔اوچا نے کہا کہ جنوبی اور وسطی دارفور کے بعض علاقوں میں قبائلی کشیدگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ چند روز کے دوران متعدد ہلاکت خیز واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنائیں اور انسانی امداد کی تیز رفتار، محفوظ، بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی کو ممکن بنایا جائے۔







