امریکا نے سابق کیوبن صدر راؤل کاسترو پر فردِ جرم عائد کر دی۔بی بی سی کے مطابق قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے ایک پریس کانفرنس میں بتیا ہے کہ ’راؤل کاسترو اور دیگر افراد پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں فردِ جرم عائد کی جا رہی ہے۔
امریکا نے سابق کیوبن صدر راؤل کاسترو پر فردِ جرم عائد کر دی

مزید خبریں
واشنگٹن ۔21مئی (اے پی پی):امریکا نے سابق کیوبن صدر راؤل کاسترو پر فردِ جرم عائد کر دی۔بی بی سی کے مطابق قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے ایک پریس کانفرنس میں بتیا ہے کہ ’راؤل کاسترو اور دیگر افراد پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں فردِ جرم عائد کی جا رہی ہے۔بلانش کے مطابق کاسترو اور دیگر ملزمان پر طیارہ تباہ کرنے اور قتل کے چار مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ سنہ 1996 میں جب کیوبن فوجی طیاروں نے دو شہری جہازوں کو مار گرایا تھا تو اس واقعے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کے خاندان دہائیوں سے ’انصاف‘ کے منتظر ہیں۔اس حادثے میں ہلاک ہونے والے چار افراد 44 برس کے آرمینڈو الیخاندری جونیئر، 29 برس کے کارلوس البرٹو کوسٹا، 24 برس کے ماریو مانوئل دے لا پینیا اور 29 برس کے پابلو مورالس کے نام لینے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل بلانش نے کہا کہ ’کاسترو اور ان کے ساتھیوں کے خلاف فردِ جرم ایک وفاقی عدالت نے جاری کی ہے۔بلانش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے، ٹرمپ انتظامیہ ان لوگوں کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہے جو امریکیوں کو قتل کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکا اپنے شہریوں کو نہ بھولتا ہے اور نہ ہی بھولے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ممالک اور ان کے رہنماؤں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ امریکیوں کو نشانہ بنائیں اور پھر جوابدہی سے بچ جائیں۔








