واشنگٹن۔27ستمبر (اے پی پی):امریکانے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے انکار کے باوجود عارضی جنگ بندی پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ العربیہ اردو کے مطابق لبنان میں حملے روکنے کے حوالے سے امریکی وزیر دفاع نے لائیڈ آسٹن نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ہر طرح کی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نےکہا …
امریکا کا اسرائیلی وزیر اعظم کے انکار کے باوجود عارضی جنگ بندی پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ
واشنگٹن۔27ستمبر (اے پی پی):امریکانے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے انکار کے باوجود عارضی جنگ بندی پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ العربیہ اردو کے مطابق لبنان میں حملے روکنے کے حوالے سے امریکی وزیر دفاع نے لائیڈ آسٹن نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ہر طرح کی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نےکہا کہ سفارتی حل اب بھی موجود ہے۔انہوں نے لندن میں اپنے برطانوی اور آسٹریلوی ہم منصبوں سے ملاقات کے بعد بیان میں کہا کہ دنیا کو اب ایک ہمہ گیر جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔ یہ جنگ اسرائیل اور لبنان دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کا خیال تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے دعوے کے مطابق اسرائیل کو اپنی اور خود مختار زمینوں کے تحفظ میں مدد دینے کے اپنے عزم کو تبدیل نہیں کرے گا۔ امریکا پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج اور اہلکاروں کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔ لائیڈ آسٹن کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے عارضی جنگ بندی کے اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ دنیا کے ممالک بشمول بڑے عرب ممالک، جی سیون اور یورپی یونین سرحد پر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی روکنا چاہتی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فرانس کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرنے اور امریکاکی حمایت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انٹونی بلنکن نے کہا کہ پوری دنیا یورپ اور خطے کے تمام بڑے ممالک کی جانب سے واضح طور پر بات کی جارہی ہے کہ جنگ بندی کی ضرورت ہے ۔انہوں نےکہا کہ وہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے آنے والے گھنٹوں میں نیویارک میں اسرائیلی حکام سے ملاقات کریں گے۔
نیتن یاہو کے دفتر نےجمعرات کو کہا کہ وہ شمالی اسرائیل میں پوری طاقت کے ساتھ لڑائی جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز نے جنگ بندی کی تجاویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ شمال کے باشندوں کی ان کے گھروں کو محفوظ واپسی تک حزب اللہ کے خلاف لڑائی جاری رہے گی ۔دوسری جانب اسرائیل نے اعلان کیا کہ اسے اپنی موجودہ جنگی کوششوں کی حمایت کے لیے امریکاسے 8.7 بلین ڈالر کا امدادی پیکج موصول ہوا ہے۔
اس پیکج میں جنگی کوششوں سے متعلق ضروری خریداریوں کے لیے مختص 3.5 ارب ڈالر اور فضائی دفاعی نظام کے لیے مختص 5.2 ارب ڈالر شامل ہیں۔ ان میں آئرن ڈوم اینٹی میزائل سسٹم اور ایک جدید لیزر سسٹم بھی شامل ہیں۔









