نیویارک ۔ 6 اگست (اے پی پی)امریکی اخبارات نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنی اس حماقت کو خطرناک اور غیرمعمولی علاقائی بحران میں تبدیل ہونے سے روکے۔معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ادارتی بورڈ نے بھارتی اقدام کو خطرناک اور غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف خونریزی یقینی ہے بلکہ …
امریکی اخبارات کی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کی مذمت کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کے سامنے بھارتی حکومت کہاں تک ٹھہر سکے گی، واشنگٹن پوسٹ

مزید خبریں
نیویارک ۔ 6 اگست (اے پی پی)امریکی اخبارات نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنی اس حماقت کو خطرناک اور غیرمعمولی علاقائی بحران میں تبدیل ہونے سے روکے۔معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ادارتی بورڈ نے بھارتی اقدام کو خطرناک اور غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف خونریزی یقینی ہے بلکہ پاکستان کے ساتھ بھارت کی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو گا اور علاقے کے لئے اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے۔اخبار نے کہا ہے کہ امریکا، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھارت کو اس حماقت سے روکیں جو خطے کے لئے ایک خطرناک بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ بھارتی حکومت کو اچھی طرح علم تھا کہ اس کے اقدامات خطے میں آگ لگا دیں گے اسی لئے اس نے یہ اعلان کرنے سے قبل نہ صرف ہزاروں اضافی فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دیئے بلکہ اہم کشمیری رہنمائوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا، سیاحوں کو مقبوضہ علاقے سے نکال دیا، سکول بند کردیئے اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔ بھارتی حکومت نے ان تمام اقدامات کی وجہ یہ بتائی کہ مقبوضہ علاقے میں دہشت گردی کی کسی بڑی کارروائی کا اندیشہ ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور حکمران جماعت بی جے پی نے روایتی ہندو زہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو تاریخی غلطی کی درستی قرار دیا۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کے لئے ریفرنڈم کرانے کی تجویز دی تاہم اس تجویز پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔اس پس منظر میں کئے گئے تازہ ترین بھارتی اقدام نے کشیریوں کی مزاحمت کو مہمیز کردیا۔کشمیریوں کو سب سے زیادہ تحفظات غیر ریاستی باشندوں کو ان کی زمین خریدنے کی اجازت دیئے جانے پر ہیں جس کو اب تک مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے تحفظ حاصل تھا۔اخبار نے مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے اس بیان کا حوالہ دیا ہے کہ کشمیریوں کی شناخت پر سمجھوتے سے مقوضہ خطے میں افراتفری اور خلا پیدا ہو جائے گا۔پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے بھارت کے اس غیر قانونی اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور وزارت خارجہ نے کہا کہ اس بھارتی اقدام کے جواب میں ہر ممکن راستہ اختیار کیا جائے گا۔اخبار نے لکھا ہے کہ اگرچہ اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ بھارتی حکومت کے اس اقدام کو کالعدم قرار دے دے گی لیکن آگ تو لگ چکی ہے۔ایک اور معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ تازہ ترین بھارتی اقدام کشمیر پر طویل عرصے سے جاری اس کے قبضے میں ایک نیا اور تباہ کن موڑ ہے۔بھارت کے متعدد قانونی ماہرین نے اس حوالے سے صدارتی حکمنامے کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 بھارتی اور ریاست مقبوضہ کشمیر کے درمیان واحد آئینی کڑی تھا، اس کو کالعدم قرار دینے کی مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے منظوری ضروری ہے لیکن بھارت اس اسمبلی کو 1956ء میں تحلیل کر چکا ہے۔ مزید براں بھارت نے اس اقدام سے قبل مقبوضہ علاقے میں فوجی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا جو دنیا بھر میں واحد علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں فوج تعینات ہے۔بھارت نے اس اقدام سے قبل نہ صرف آزادی پسند رہنمائوں بلکہ ایسے کشمیری رہنمائوں کو بھی گرفتار کر لیا جو ماضی میں یہاں اس کی حمایت یافتہ حکومتوں میں شامل رہے ہیں۔








