امریکی انتظامیہ روس کی مشاورت سے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے نئے منصوبے کی تیاری میں مصروف

واشنگٹن، ماسکو۔19نومبر (اے پی پی):امریکی انتظامیہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئے ایک نیا منصوبہ تیار کر رہی ہے جس میں وہ روس کے ساتھ خفیہ مشاور ت کر رہی ہے ۔تاس کے مطابق امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے امن مشن سٹیو وٹکوف اس وقت اس منصوبے کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ نیا 28 نکاتی امریکی منصوبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں معاہدے کے …

واشنگٹن، ماسکو۔19نومبر (اے پی پی):امریکی انتظامیہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئے ایک نیا منصوبہ تیار کر رہی ہے جس میں وہ روس کے ساتھ خفیہ مشاور ت کر رہی ہے ۔تاس کے مطابق امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے امن مشن سٹیو وٹکوف اس وقت اس منصوبے کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ نیا 28 نکاتی امریکی منصوبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں معاہدے کے لیے کامیاب دباؤ سے متاثر ہو کر تیار کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے امن مشن سٹیو وِٹکوف نے اس سلسلہ میں روسی صدر کے خصوصی ایلچی برائے سرمایہ کاری اور بیرونی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون اور روسی براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سی ای او کرل دمتریف کے ساتھ اس منصوبے پر وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔

روسی اہلکار نے بتایا کہ انہوں نے 24-26 اکتوبر کو میامی، فلوریڈا کے اپنے دورے کے دوران سٹیووِٹکوف اور امریکی انتظامیہ کے دیگر نمائندوں سے مشاورت کی اور کہا کہ اس حوالے سے ایک معاہدے تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ روس کا موقف واقعی سنا جا رہا ہے ۔

روسی عہدیدار نے مزید کہا کہ یوکرین کے تنازعے کو حل کرنا ، امریکا اور روس کے تعلقات کو بحال کرنا اور روس کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنا اس بات چیت کے بنیادی نکات ہیں۔ یہ وہ اصول ہیں جن پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے الاسکا میں ملاقات کے دوران اتفاق کیا تھا۔ روسی عہدیدار نے مزید کہا کہ یہ درحقیقت ایک بہت وسیع فریم ورک ہے جس میں بنیادی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم واقعی یوکرین ہی نہیں بلکہ یورپ کے لیے بھی پائیدار سلامتی کیسے لائیں گے ۔

روسی عہدیدار کے مطابق ان کی بات چیت کا مقصد روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آئندہ ملاقات سے قبل ان اصولوں پر منبی دستاویز کو حتمی شکل دینا ہے۔ روسی عہدیدار نے کہا کہ ان کا ملک یقینی طور پر میدان جنگ میں اندازوں سے زیادہ کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔