واشنگٹن ۔19نومبر (اے پی پی):امریکی سینیٹ نے ایپسٹین فائلز جاری کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔شنہوا کے مطابق امریکی سینیٹ نےنمائندگانِ اسمبلی سے منظور شدہ اس بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا جس کے تحت محکمۂ انصاف (ڈی او جے ) کو معروف مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلیں جاری کرنا لازمی ہو گا۔ بل کو قانون بننے کے لیے اب بھی صدر ڈونلڈ …
امریکی سینیٹ نے ایپسٹین فائلز جاری کرنے کے بل کی منظوری دے دی

مزید خبریں
واشنگٹن ۔19نومبر (اے پی پی):امریکی سینیٹ نے ایپسٹین فائلز جاری کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔شنہوا کے مطابق امریکی سینیٹ نےنمائندگانِ اسمبلی سے منظور شدہ اس بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا جس کے تحت محکمۂ انصاف (ڈی او جے ) کو معروف مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلیں جاری کرنا لازمی ہو گا۔
بل کو قانون بننے کے لیے اب بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط درکار ہیں۔یہ منظوری اس وقت دی گئی جب چند ہی گھنٹے قبل ایوانِ نمائندگان نے بل کی حمایت میں 427 ووٹوں سے منظوری دے دی جبکہ مخالفت میں صرف ایک ووٹ پڑا جو تقریباً مکمل اتفاق رائے تھا۔ سینیٹ میں بل کی منظوری اس سے پہلے دے دی گئی جب کہ وہ تکنیکی طور پر ایوان سے سینیٹ کو بھیجا بھی نہیں گیا تھا۔
سینیٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ میری متفقہ رضامندی کی درخواست اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ سینیٹ ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ کو فوراً منظور کرےگا،جیسے ہی یہ بل ایوان سے آئے گا، ہم اسے بغیر تبدیلی، بغیر تاخیر کے منظور کریں گے اور آخرکار یہ کام مکمل ہو جائے گا۔بل کے تحت محکمۂ انصاف پر لازم ہو گا کہ وہ ایپسٹین کی تحقیقات اور مقدمات سے متعلق تمام غیر خفیہ ریکارڈ، دستاویزات، مواصلات اور تحقیقاتی مواد شائع کرے۔ تاہم کچھ معلومات جن میں متاثرین کی شناخت اور فعال وفاقی تحقیقات کو متاثر کرنے والا ڈیٹا شامل ہے ، روکنے کی اجازت دی گئی ہے۔
واضح رہے کانگریس کی منظوری صدرڈونلڈ ٹرمپ کی اچانک پالیسی تبدیلی کے دو دن بعد سامنے آئی، جب انہوں نے ری پبلکن ارکان کو فائلیں جاری کرنے کے حق میں ووٹ دینے کی ترغیب دی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کا یہ فیصلہ اس لیے سامنے آیا کیونکہ بڑی تعداد میں ری پبلکن ارکان پہلے ہی بل کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ تھے۔
ایپسٹین کے امریکا کی معروف سیاسی و کاروباری شخصیات سے قریبی تعلقات تھے۔ اسے جنسی جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے بعد اگست 2019 میں جیل میں مردہ پایا گیا، جسے سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنی 2024 کی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ ایپسٹین کیس سے متعلق دستاویزات جاری کریں گے، تاہم 7 جولائی 2024 کو DOJ اور ایف بی آئی نے ایک میمو جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی "مجرمانہ کلائنٹ فہرست” موجود نہیں، نہ ہی قتل کا کوئی ثبوت ہے، اور مزید دستاویزات جاری نہیں کی جائیں گی۔
یہ نیا بل جولائی 2025 کے وسط میں ایوان میں پیش کیا گیا تھا، لیکن ری پبلکن قیادت بشمول اسپیکر مائیک جانسن نے مہینوں تک اس کی پیش رفت روک کر رکھی۔جمعہ کوامریکی صدر نے ڈی اور جے کو ہدایت کی کہ وہ ایپسٹین سے وابستہ اہم ڈیموکریٹ رہنماؤں جن میں سابق صدر بل کلنٹن بھی شامل ہیں، کی تحقیقات کرے۔ ناقدین اس اقدام کوڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جاری ایپسٹین فائلز کے ممکنہ سیاسی اثرات کا توڑ قرار دے رہے ہیں۔








