امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے ووٹرز کو ترغیب دی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو امریکی کانگریس کے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں بذریعہ ڈاک ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
امریکی صدر کا یوٹرن ، ووٹرز کو بذریعہ ڈاک ووٹ ڈالنے کی ترغیب

مزید خبریں
واشنگٹن۔6اکتوبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے ووٹرز کو ترغیب دی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو امریکی کانگریس کے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں بذریعہ ڈاک ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ امریکی صدر کا بذریعہ ڈاک ووٹنگ کا موقف ان کے سابقہ موقف میں تبدیلی اور یو ٹرن ہے کیونکہ وہ کئی برسوں سے میل اِن ووٹنگ کو بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی سے جوڑتے رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکی صدر نے گزشتہ سہ پہر نیبراسکا میں انتخابی ریلی کے لیے روانہ ہونے سے قبل وائٹ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حامی 3 نومبر کو ہونے والے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں بذریعہ ڈاک ووٹ دے سکتے ہیں، اگرچہ انہوں نے ذاتی طور پر پولنگ سٹیشن جا کر ووٹ ڈالنے کو ترجیح دینے کا بھی کہا۔ امریکی صدر نے کہا کہ لوگ اپنی مرضی کے مطابق میل کے ذریعے یا ذاتی طور پر ووٹ ڈال سکتے ہیں کیونکہ بہت سے لوگ ڈاک کے ذریعے ووٹ کا حق استعمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ بہت سے دوسرے ذاتی طور پر ووٹ ڈالنا پسند کرتے ہیں۔ یہ بیان اس انتخابی وڈیو کے بعد سامنے آیا جو انہوں صدر ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے ریپبلکن ووٹرز پر زور دیا تھا کہ وہ جلد ووٹ ڈالیں،بذریعہ ڈاک ووٹ ڈالیں یا 3 نومبر کو انتخابات کے دن پولنگ سٹیشن جا کر ووٹ ڈالیں۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ نے اپنا مؤقف کیوں تبدیل کیا۔ وہ متعدد مرتبہ یہ غلط دعویٰ کر چکے ہیں کہ 2020 کے صدارتی انتخابات میں ان کی شکست انتخابی دھاندلی کا نتیجہ تھی، جس میں میل اِن بیلٹس بھی شامل تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل بذریعہ ڈاک ووٹنگ کے قواعد کو نمایاں طور پر سخت کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم ستمبر میں امریکی سپریم کورٹ نے پوسٹل سروس کو نئے قواعد نافذ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں ریپبلکن پارٹی کو قومی سطح پر مشکل سیاسی ماحول کا سامنا ہے۔ رائٹرز/اِپسوس کے گزشتہ روز مکمل ہونے والے سروے کے مطابق ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی شرح 32 فیصد رہی، جو ستمبر کی ریکارڈ کم سطح کے برابر ہے۔ اسی سروے میں رجسٹرڈ ووٹرز سے پوچھا گیا کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں کس جماعت کی حمایت کریں گے۔ 44 فیصد نے ڈیموکریٹس جبکہ 37 فیصد نے ریپبلکنز کا انتخاب کیا۔







