امریکی نیوی نے حوثی ملیشیا کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل اور ڈرونز کو مار گرایا ہے ، پینٹاگان

واشنگٹن ۔20اکتوبر (اے پی پی):امریکا نے کہا ہے کہ ا س کی نیوی نے حوثی ملیشیا کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل اور ڈرونز کو مار گرایا ہے ۔سعودی ذرائع ابلاغ نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے تین کروز میزائل اور متعدد ڈرونزکو ایک ڈسٹرائر نے روک لیا، یہ حملہ ممکنہ طور پر اسرائیل …

واشنگٹن ۔20اکتوبر (اے پی پی):امریکا نے کہا ہے کہ ا س کی نیوی نے حوثی ملیشیا کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل اور ڈرونز کو مار گرایا ہے ۔سعودی ذرائع ابلاغ نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے تین کروز میزائل اور متعدد ڈرونزکو ایک ڈسٹرائر نے روک لیا، یہ حملہ ممکنہ طور پر اسرائیل میں اہداف کی طرف یمن سے کیا گیا تھا۔امریکا کارنی نامی بحری جہاز غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کےدرمیان جنگ کے تناظر میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے صدر جو بائیڈن کے حکم پر امریکی فوجی موجودگی کے ایک حصے کے طور پر بحیرہ احمر میں گشت کر رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی امریکی جانی نقصان نہیں ہوا اور ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ میزائل کس کو نشانہ بنا رہے تھے لیکن یہ یمن سے داغے گئے تھے اور بحیرہ احمر کے ساتھ شمال کی طرف جا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا دفاعی ردعمل وہی تھا جو ہم خطے میں کسی بھی ایسے ہی خطرے کے لیے اٹھاتے، ہم خطے میں اپنے وسیع تر مفادات کا دفاع کرنے اور حماس کے اسرائیلی شہریوں پر حملے سے شروع ہونے والی علاقائی کشیدگی اور تنازعے کو وسیع تر ہونے سے روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر بائیڈن نے اسرائیل کی مدد کے لیے علاقے میں فضائی اور بحری اثاثوں میں اضافے کا حکم دیا اورمشرق وسطیٰ میں 2 طیارہ بردار بحری جہاز بھی بھیجے ہیں۔پینٹاگان نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تعیناتی کے لیے 2ہزار اہلکاروں کو سٹینڈ بائی پر رہنے کا بھی حکم دیا ہے۔ادھر،امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی سے امریکا کو کسی بھی بحران کی صورت میں زیادہ تیزی سے جواب دینےکا موقع ملے گا، تاہم وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی لڑاکا افواج کو زمین پر رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔