واشنگٹن۔28جنوری (اے پی پی):امریکی ریاست منیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن کانگریس الہان عمر پر منیاپولس میں ٹاؤن ہال میٹنگ کے دوران ایک حملہ آور نے نامعلوم مائع مواد پھینک دیاتاہم رکن کانگریس حملے میں محفوظ رہیں۔ الجزیرہ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈیموکریٹ رکن گانگریس الہان عمر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ادارے کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔حکام نے …
امریکی ڈیموکریٹ خاتون رکن کانگریس الہان عمر پر نامعلوم مائع مواد سے حملہ
واشنگٹن۔28جنوری (اے پی پی):امریکی ریاست منیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن کانگریس الہان عمر پر منیاپولس میں ٹاؤن ہال میٹنگ کے دوران ایک حملہ آور نے نامعلوم مائع مواد پھینک دیاتاہم رکن کانگریس حملے میں محفوظ رہیں۔ الجزیرہ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈیموکریٹ رکن گانگریس الہان عمر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ادارے کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔حکام نے بتایا کہ نامعلوم حملہ آور کو تیسرے درجے کے حملے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
حکام نے اس مائع مواد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جو الہان عمر پر پھینکا گیا تھا۔ حملے کی وڈیو میں ایک شخص کو اس وقت الہان عمر کے سٹیج کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب وہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے خاتمے اور ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوم کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ رکن کانگریس الہان عمر نے حملے سے چند سیکنڈ پہلے تقریر کے دوران کہا کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ میں اصلاح ممکن نہیں، اسے بحال نہیں کیا جا سکتا، ہمیں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہوگا اور ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوم کو یا تو استعفیٰ دینا چاہیے یا مواخذے کا سامنا کرنا چاہیے۔
حملہ آور کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ تمہیں استعفیٰ دینا ہوگا ، جب اس نے ایک سرنج کے ذریعے گہرے رنگ کا مائع مواد الہان عمر پر چھڑکا۔سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔ الہان عمر نے اپنے حامیوں کو بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ انہوں نےدوبارہ سٹیج پر آ کر کرسٹی نوم کے استعفے کے مطالبے کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم منیسوٹا کے لوگ مضبوط ہیں اور جو کچھ بھی وہ ہم پر پھینکیں گے، ہم اس کے سامنے ڈٹے رہیں گے۔ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن کانگریس الہان عمر نے واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔ میں ایک سروائیور ہوں، اس لیے یہ چھوٹا سا اشتعال انگیز شخص مجھے میرے کام سے نہیں روک سکتا، میں غنڈوں کو جیتنے نہیں دیتی، اپنے شاندار ووٹرز کی شکر گزار ہوں جنہوں نے میرا ساتھ دیا، منیسوٹا مضبوط ہے۔
منیاپولس کے ڈیموکریٹک میئر جیکب فرے نے ایکس پر کہا کہ ناقابلِ قبول۔ منیاپولس میں تشدد اور دھمکی کی کوئی جگہ نہیں۔ ہم لوگوں کو خطرے میں ڈالے بغیر اختلاف کر سکتے ہیں۔ جنوبی کیرولائنا سے ریپبلکن رکنِ کانگریس نینسی میس نے کہا کہ مجھے ٹاؤن ہال میں رکنِ کانگریس الہان عمر پر حملے کا سن کر دکھ ہوا ہے ۔ چاہے میں ان کے بیانات سے کتنی ہی سختی سے اختلاف کیوں نہ کرتی ہوں اور میں کرتی ہوں ،کسی بھی منتخب نمائندے کو جسمانی حملوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ الہان عمر، جو ایک صومالی نژاد امریکی اور سابقہ مہاجر ہیں، کو اس سے قبل بھی غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مخالفت اور امیگریشن اصلاحات جیسے ترقی پسند مؤقف کی وجہ سے امریکی قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
الہان عمر نے 2018 میں تاریخ رقم کی جب وہ امریکی کانگریس میں منتخب ہونے والی پہلی دو مسلم خواتین میں شامل ہوئیں۔ وہ 2024 میں تیسری مدت کے لیے منتخب ہوئیں اور منیسوٹا کے پانچویں کانگریشنل ضلع کی نمائندگی کرتی ہیں، جس میں منیاپولس اور اس کے آس پاس کے علاقے شامل ہیں۔وہ ایوانِ نمائندگان میں پروگریسیو کاکس کی نائب چیئر بھی ہیں، جو تقریباً 100 قانون سازوں پر مشتمل ایک گروپ ہے اور امیگریشن اصلاحات، یونیورسل ہیلتھ کیئر اور قرض سے پاک اعلیٰ تعلیم جیسے ترقی پسند نظریات کی حمایت کرتا ہے۔وہ دسمبر میں شروع کیے گئے آپریشن “میٹرو سرج” کی بھی سخت ناقد ہیں، جو منیاپولس میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی گرفتاری کے لیے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی ایک بڑی کارروائی ہے۔









